سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقہ ملاکنڈ ڈویژن و کوہستان کی خصوصی حثیت ’’ پاٹا ‘‘ کے خاتمے کے خلاف سوات ٹریڈرز فیڈریشن، تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے جولائی میں ہونے والے انتخابات سے بائیکاٹ کی دھمکی دے دی۔ سوات ٹریڈرفیڈریشن کے صدر عبدالرحیم، تحریک انصاف سوات کے صدروڈیڈک چیئرمین ایم پی اے فضل حکیم خان ، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل واجد علی خان،تحصیل ناظم بابوزئی (مینگورہ) اکرام خان، جے یو آئی کے اسحاق زاہد، قومی وطن پارٹی کے فضل الرحمان نونو، پیپلز پارٹی کے اقبال حسین بالے، جماعت اسلامی کے یوسف علی خان، سوات چمبرآف کامرس کے صدر نورمحمد خان، پختونخوا میپ کے اصغر خان ایڈووکیٹ سمیت سول سوسائٹی، تاجر برادری اور وکلا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کو ریاست کے دور سے ٹیکس فری زون کی خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ ہر دور میں حکمران یہاں کے باسیوں کو مراعات دینے کے بجائے ان سے حقوق چھیننے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ یہاں کے عوام دہشت گردی سیلاب اور زلزلے سے متاثرہ ہونے کی وجہ سے ان کو خصوصی پیکیجز کے بجائے ان سے حقوق چھینے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہلِ سوات سمیت پورے ڈویژن کے عوام ملاکنڈڈویژن کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی اجازت نہیں دیں گے۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں عوامی شعور اجاگر کرنے کیلئے منظم تحریک شرو ع کریں گے اور اس تحریک کو ملاکنڈ ڈویژن تک وسیع کرنے کے لیے رابطوں کا مشترکہ فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ اگر فوری طور پر یہ فیصلہ واپس نہیں لیا گیا، تو ڈویژن بھر میں منظم طور پر پُرامن تحریک کاآغاز کیا جائے گا، جس میں ڈویژن بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ، احتجاجی مظاہرے، ہڑتالی کیمپ اور لانگ ماچ کیا جائے گا۔ اگر ضرورت پڑی، تو ڈویژن بھر کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتیں آئندہ عام انتخابات سے بائیکاٹ کا اعلان کریں گی۔
previous post
