سوات (باخبرسوات ڈاٹ کام) سوات میں گیارہ سال بعد پاک فوج نے تمام اختیارات سول انتظامیہ اور پولیس کے حوالے کر دئیے جس کے بعد فوج مرحلہ وار سوات سے واپس جائے گی۔بس ایک بریگیڈ فوج کانجو میں چھاونی میں رہے گی۔ اختیارات کی منتقلی کے سلسلے میں سیدو شریف ائیر پورٹ پر تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ محمود خان تھے۔ تقریب میں کور کمانڈر پشاور جنرل نذیر بٹ، میجر جنرل خالد سعید، آئی جی خیبر پختون خواہ صلاح الدین محسود صوبائی حکومت کے ترجمان شوکت علی یوسف زئی، صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، ضلع و تحصیل ناظمین نے شرکت کی۔ تقریب میں پاک فوج کے افسر نے ایک جھنڈے کے ذریعے فورسز کے اختیارات آر پی او محمد سعید وزیرکے حوالے کر دیئے۔ برگیڈئیر نسیم نے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام کو ایک شیلڈ کے ذریعے سول اختیارات حوالہ کر دیئے۔ اختیارات کی منتقلی کے بعد فوج پچھلی نشستوں اور پولیس اگلی نشستوں پر منتقل ہوگئی ۔ سوات میں 2007ء میں مولانا فضل اللہ کی سربراہی میں شدت پسندوں کی جانب سے سکولوں، پلوں، سرکاری عمارات کو جلانے اور بے گناہ لوگوں اور پولیس کو مارنے کے بعد حکومت نے فوج کو سوات طلب کیا تھا، جس کے بعد فوج نے سوات میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا اور تمام انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ سال2009ء میں سوات کے لوگوں کی نقلِ مکانی کے بعد آپریشن مکمل کیا گیا جس کے بعد سوات کے لوگ واپس اپنے گھروں میں آئے ۔
next post
