چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
Swat

سوات، آڑو کے باغات میں رونق لگ گئی

سوات   (باخبر سوات ڈاٹ کام)   پھلوں اور فصلوں کی سرزمین سوات میں آڑو کے باغات آڑوؤں سے لد گئے۔ سوات میں ہر جانب باغات میں آڑو کے پھل نظر آرہے ہیں جو ملک بھر کو ترسیل کیے جارہے ہیں۔ سوات میں مختلف قسم کے پھل ہوتے ہیں۔ دریائے سوات کے ٹھنڈے پانی اور بہتر آب و ہوا کی وجہ سے سوات کے پھل باقی علاقوں کے پھلوں سے بہتر ہوتے ہیں، جو ملک بھر میں پسند کئے جاتے ہیں۔ سوات میں آڑو کے مختلف قسم کے پھل مئی سے اگست تک پک جاتے ہیں جس کے بعد ان پھلوں کو پیٹیوں میں بند کرکے ملک کے مختلف علاقوں کی منڈیوں میں بھیج کر فروخت کیا جاتا ہے۔ ان دنوں پانچ اور چھے نمبر کا آڑو تیار ہے جس کو خیبر پختون خواہ اور پنجاب کے شہروں میں بھیجا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس کی عمر تین سے پانچ دن کی ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ سوات کا آڑو ملک بھر میں پسند کیا جاتا ہے۔ لوگ اور خاص کر شوگر کے مریض ان آڑوؤں کو شوق سے کھاتے ہیں۔ پاکستان میں آڑو کی مجموعی پیدوار میں 80 فیصد پیدوار سوات میں ہوتی ہے۔ پچھلے سال سوات میں 4 لاکھ کلوگرام آڑو پیدا ہوا تھا۔ اس سال نئے باغات آنے کی وجہ سے اس کی پیداوار میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ سوات میں اس وقت 15 ہزار ایکٹر اراضی پر آڑو کے باغات ہیں، جس سے ہزاروں ٹن آڑو کا پھل تیار ہوکر مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ سوات میں آڑو کی ایک درجن سے زیادہ اقسام پیداہوتی ہیں، لیکن ان میں ایک سے آٹھ نمبر تک آڑو مشہور ہے۔زیادہ تر باغات میں ایک سے آٹھ نمبر کی فصل تیار ہوتی ہے۔ سوات کے آڑو کو منڈیوں میں ناموں کی بجائے نمبروں سے پہچانا جاتا ہے۔ ان میں سب سے اچھا آڑو چھے سے آٹھ نمبر کا ہے جو سائز میں بڑا اور میٹھا ہوتا ہے۔ ان میں آٹھ نمبر آڑو جو سب سے آخر یعنی اگست کے مہینے میں تیار ہوتا ہے، کو کراچی سمیت سندھ کے دور دراز شہروں میں بھیجا جاتا ہے۔ اس آڑو کی عمر پانچ دن سے سات دن تک ہوتی ہے۔یہ آڑو سب سے مہنگا ہوتا ہے۔ پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال آڑو کی قیمت منڈیوں میں کم ہے۔ ایک زمین دار مظفر شاہ نے باخبر سوات ڈاٹ کام  کو بتایا کہ آڑو کی ایک پیٹی میں پانچ سے چھے کلو تک آڑو ہوتا ہے، جس پر مزدوری، خالی پیٹی، کاغذ، سکواش ٹیپ، لوڈنگ، اَن لوڈنگ اور کرایہ کا خرچہ آتا ہے۔ پنجاب کی منڈیوں میں اسے پہنچا کر وہاں پر اسے چار سو سے پانچ سو روپے فی پیٹی فروخت ہوتی ہے۔خرچہ نکال کر زمین دار کو ایک پیٹی کا دو سو سے ڈھائی سو روپے ملتا ہے۔ سوات میں آڑو کے سیزن میں ہزاروں لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہو جاتے ہیں۔ مئی سے اگست تک کام کرنے والا کوئی شخص سوات میں بے روزگار نہیں ہوتا۔ آڑو کے باغات میں ہر شخص کا کام مل جاتا ہے۔ ایک مزدور جاوید احمد نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ وہ صبح سے دوپہر تک بلاناغہ آڑو کے باغات میں کام کرتا ہے۔ اس کو روزانہ چھے سو روپے دیہاڑی مل جاتی ہے اور اس کے ساتھ وہ باغات میں خود بھی آڑو کھاتا رہتا ہے اور گھر جاتے ہوئے بچوں کے لئے بھی لے جاتا ہے۔ سوات میں باغات کے مالکان آڑو کے درختوں میں پھول اُگنے کے ساتھ ہی اپنے باغات کو بیو پاریوں کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں جس کے بعد بیوپاری باغات کی دیکھ بھال سے لے کر پھل کو درختوں سے اتار نے تک کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ سوات میں ہر جانب سڑک کے کنارے آڑو کی پیٹیوں کے اسٹال نظر آتے ہیں۔ سوات آنے اور جانے والے لوگ اور خاص کر سیاح یہ آڑو خرید کر اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ سڑک کے کنارے فروخت ہونے والے آڑو کی ایک پیٹی ڈھائی سو سے تین سو روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ سوات کے لوگ ملک کے مختلف علاقوں میں اپنے رشتہ داروں اور دوست احباب کو یہ آڑو تحائف کے طور پر بھی ارسال کرتے ہیں۔ مختلف علاقوں کے لوگ موسمِ گرما کے مہینوں میں سوات میں اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں کی جانب سے آڑو کے تحائف کے انتظار میں رہتے ہیں۔ سوات کے آڑو کو شعرا نے بھی بیشتر کلاموں میں لکھا ہے۔ سوات کے ایک شاعر محمد حنیف قیس نے اپنی ایک غزل کے ایک شعر میں لکھا ہے کہ”آشنا دَ ملاکنڈ دَ سرہ چغی کڑے چہ قیصہ، پہ خکتہ چہ رازی نو شلتالان ورسرہ راوڑہ“ شاعر کہتا ہے کہ ایک دوست نے ملاکنڈ کی چوٹی سے آواز دی کہ آتے وقت اپنے ساتھ آڑو لیتے آنا۔

Related posts

قتل کے مقدمہ میں باپ، بیٹے کو عمر قید اور جرمانے کی سزا

Ba Khabar Swat

اے این پی پختون قوم کے حقوق کی جنگ لڑرہی ہے، قجیر خان

Ba Khabar Swat

سوات پولیس کا ٹمبر مافیا کے خلاف خصوصی آپریشن کا آغاز، 9 گرفتار

Ba Khabar Swat

Leave a Comment