چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
Swat

مہنگائی، تیل اور گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، بڑی گاڑیوں کی خرید و فروخت میں کمی

(باخبر سوات ڈاٹ کام)ملک میں مہنگائی، تیل اور گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے پاکستان اور خاص کر خیبر پختون خوا میں زیا دہ تر لوگوں نے بڑی گاڑیوں کا خریدنا بند کردیا ہے۔اب کم سی سی والے انجن کی گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔ اس سے پہلے پشاور سمیت باقی اضلاع میں سڑکوں پر بڑی گاڑیاں جن میں جیپ اور لگژری موٹر کارز شامل ہیں،سڑکوں پر نظر آتی تھیں، لیکن اب ان سڑکوں پر چھوٹی گاڑیاں نظر آرہی ہیں۔ پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی ایک کمپنی کے سیل منیجر سلیم خان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ نئی گاڑیوں کی قیمتوں چار لاکھ روپے تک اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے گاڑیوں کی فروخت میں کمی آئی ہے۔ ایک شو روم کے مالک بلال خان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ مارکیٹ میں 4700 سی سی انجن، 3400، 2700،3000، 1800، 1500 اور 1300 سی سی انجن والے پاکستانی اور جاپانی گاڑیوں کی فروخت کم ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ایک سال پہلے لوگ بڑے انجن والی گاڑیاں خریدتے تھے، لیکن اب مارکیٹ میں 660 سی سی انجن یا 1000سی سی انجن والی پاکستانی اور جاپانی گاڑیاں خرید رہے ہیں، جن کا خرچہ انتہائی کم ہے۔ بلال خان کے مطابق جن لوگوں کے پاس بڑی گاڑیاں ہیں، وہ ان کو فروخت کرنا چاہتے ہیں، لیکن بڑی گاڑیوں کے خریدار اس وقت نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے شوروم میں موجود بڑی گاڑیوں کے بارے میں کوئی پوچھتا بھی نہیں۔انہوں نے کہا کہ اکثر صاحب ثروت لوگ بھی ”ہائی بریڈ“ گاڑیاں خریدتے ہیں جو زیادہ تر بیٹریوں کے ذریعے چلتی ہیں۔بڑی گاڑیوں کی تعداد میں کمی اور کم سی سی انجن والی گاڑیوں کی فروخت میں اضافے کے بعد فِلنگ سٹیشن کے سیل میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ ایک فِلنگ سٹیشن کے مالک خضر حیات نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ پٹرول پمپوں کی سیل میں 50 فیصد کمی آئی ہے۔ دن بہ دن تیل کی سیل میں کمی آرہی ہے، جس کی وجہ سے اکثر پٹرول پمپ مالکان کا خیال ہے کہ اگر یہ سلسلہ چلتا رہا، تو وہ اپنا کاروبار بند کرکے اس کی جگہ کوئی اور کاروبار شروع کریں گے۔پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کی پیداوار میں تیزی سے کمی آگئی ہے۔ کمپنیوں نے آدھے سے زائد ملازمین کو فارغ کردیا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گذشتہ ایک سال میں کاروں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس کی وجہ سے عوام میں گاڑیاں خریدنے کے رجحان میں واضح کمی نظر آ رہی ہے۔ ملک میں کاریں بنانے والے بڑے صنعتی پلانٹس اپنی پیداوار میں تیزی سے کمی لاتے ہوئے پیداوار کے دنوں میں کمی کر رہے ہیں، یعنی آئندہ چند ماہ میں بھی یہ رجحان ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔ نومبر 2019ء میں پاکستان میں کاروں کی پیداوار جنوری 2019ء کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی رہ گئی ہے۔ پہلی وجہ ڈالر کو پر لگنا ہے۔ اس سال کے آغاز سے اب تک پاکستانی روپے کی قدر میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے کاروں کی تیاری کے لیے درکار درآمدات کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے کاروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ اس کے علاوہ گذشتہ بجٹ میں حکومت نے گاڑیوں پر اضافی ٹیکس بھی لگایا۔ ضمنی مالی بجٹ کے دوسرے ترمیمی ایکٹ 2019ء کے ذریعے 1700 سی سی اور اس سے اوپر والی گاڑیوں پر 10 فیصد سے زیادہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) متعارف کروائی گئی تھی۔ پاکستانی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے بھی اب کم سی سی انجن والی گاڑیاں حال ہی میں متعارف کرائی ہیں۔ ایک کمپنی کے مجاز ڈیلر کے سی ای او محمد طیب نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کی کمپنی نے 660 سی سی اور 1000 سی سی والی گاڑیاں متعارف کرائی ہیں۔ زیادہ لوگ وہی گاڑیاں خرید رہے ہیں۔ ان کی کمپنی کی تیار کردہ بڑی گاڑیوں کی فروخت نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان کے سابق قبائلی علاقہ جات ”فاٹا“ اور ”پاٹا“ کی قبائلی حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ ان اضلاع میں وہ تمام قوانین اب نافذ ہیں، جو ملک کے باقی حصوں میں نافذ ہیں لیکن حکومت نے2023ء تک پانچ سال کے لئے ان اضلاع کو ٹیکس اور کسٹم سے مستثنا قرار دیا تھا، جس کی وجہ سے ان علاقوں میں اب بھی لاکھوں کی تعدادمیں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں موجود ہیں۔ ان گاڑیوں کی خرید وفروخت کرنے والے ایک شو روم کے مالک سید حسنین شاہ نیباخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں سستے ہونے کی وجہ سے ان اضلاع میں زیادہ تر لوگ ٹی زیڈ اور ٹی ایکس جیپ خریدتے تھے۔ اس کا استعمال کرتے تھے، لیکن مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب لوگ نان کسٹم پیڈ بڑی گاڑیاں نہیں خرید رہے۔ اپنی گاڑیوں کو فروخت کرتے ہیں، لیکن خریدار نہ ہونے کی وجہ سے اب وہ گاڑیاں انہوں نے کھڑی کی ہیں۔ ان کے مطابق نان کسٹم پیڈ گاڑیوں میں 660 سی سی جاپانی گاڑیوں کی خرید میں اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ چھوٹی گاڑیاں پہلے چار لاکھ سے پانچ لاکھ روپے میں فروخت ہوتی تھیں اور مانگ میں اضافے کے بعد اب ان گاڑیوں کی قیمت سات لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔

Related posts

Police Sends Mother in Law and Accomplice to Jail for Cutting Daughter in Law’s Tongue

Ba Khabar Swat

سوات، پولیس شہدا کو شان دار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا

Ba Khabar Swat

65-Year-Old Man Shot and Killed inside House in Sheratraf, Swat

Ba Khabar Swat

Leave a Comment