چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
ساجد ابوتلتاندکالم

عید کا میلہ کہاں کھوگیا؟

عید کے روز اپنی بیٹی انم زلا اور بیٹے احمد علی تلتاند کے پُرزور اصرار پر اُن کے ساتھ عید کا میلہ دیکھنے گیا۔ جہاں کوئی شے ایسی نہ تھی جس پر میلے کا گمان گذرے۔ اِکا دُکا بچے نظر آئے۔ خال خال ایک آدھ جوان بھی موجود تھا، لیکن وہ بھی شاید دریا کے ٹھنڈے ماحول میں ہوا خوری کے لیے آیا تھا۔ اگرچہ خوشگوار موسم، بہتر ماحول اور جھولا دستیاب تھا۔ اس سے میلے میں رونق پیدا کرنے کے لیے کافی سامان موجود تھا۔ پھر بھی میلے کا سا سماں نہ تھا۔ دو عدد کرسی والے جھولے جسے عمودی موٹے بانس کو بیرنگوں کے ذریعے ایک عمودی سلیپر (جس کے دونوں سروں پر کرسیاں بناکر گھماتے ہیں) موجود تھے۔ ایک عدد چرخی والا جھولا تھا، جس کے پاس نسبتاً زیادہ بچے کھڑے تھے۔ ایک اور گرزنے بھی تھا جس کے بانس کا ایک سرا زمین میں گاڑ دیا گیا تھا اور دوسرا سرا جو کوئی سات فٹ زمین سے اونچا تھا، اس پر دو افقی کڑیاں بیرنگوں کے ذریعے پیوست تھیں۔ ہر ایک سرے سے رسی آویزاں تھی جس کے نیچے سرے میں بیٹھنے کے لیے لکڑی باندھ دی گئی تھی۔ اس گرزنے پر بہ یک وقت چار بچے بیٹھ سکتے تھے۔ چار جھولے اور تھے جنہیں ہم ٹال کہتے ہیں، پرمیلے کامزا نہیں تھا۔
اس ماحول میں سات گھرانوں کے افراد اخترعلی، نثار، مختیار، عدنان، جمیل، محمد زاہد اور رحیم اللہ کی آنکھیں ہر آنے والے کا جائزہ لیتیں کہ کاش! کوئی آئے اور اس میلے میں رنگ ڈالے، لیکن ……!
اس کیفیت میں مجھے ماضی کے وہ بارونق میلے یاد آئے جن میں بھیڑ کی وجہ سے اکثر بچے کھو جاتے تھے۔ عید کے میلے عموماً قبرستانوں میں ہوا کرتے تھے۔ میاں قاسم بابا، بیجورے بابا، بام بابا، شیخ فرید بابا، پلوسو اور ہمارے سور گیرے بابا وغیرہ اس کی مخصوص جگہیں تھے۔ حضرات اِن میلوں میں نہیں جاسکتے تھے۔ البتہ بچے اور نوخیز جوان ضرور جاتے تھے، بلکہ بقولِ ڈاکٹر سلطان روم ”عید کا تہوار عورتیں اپنے متعلقہ علاقہ کی زیارت میں مناتی تھیں۔“
عید کے دِن دو شیزائیں ڈفلی بجا بجا کر عید کے میلہ پہنچتی تھیں۔ درشخیلہ کا میلہ سور گیرے بابا کے مقام پر عیدین میں سجتا تھا۔ جہاں آس پاس کے گاؤں سے خواتین اور بچے اسے دیکھنے آتے تھے۔ میلے میں کھانے پینے اور جھولا جھولنے کا خاصا انتظام موجود تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف چیزیں خریدی جاتیں، لاٹریاں لگتیں، جھولوں پر جھولنے، سامان خریدنے، قسمت کے کھیل آزمانے اور جوق در جوق گھومنے پھرنے کا سامان موجود تھا۔ لیکن آج تو اس کا نقشہ ہی اُلٹ چکا ہے۔
جھولا ہماری ثقافت، رومانی ادب اور فولکلور کا خاصا رہا ہے۔ یہ گیت تو اب بھی کانوں میں گونج رہا ہے کہ
راوڑہ بندئی بندئی چی وپیرونہ
جانانہ بیرے لہ رازہ چی وزانگونہ
یا اس رومانی غزل کے مطلع کو پڑھیے:
ھم ئی بیرہ دہ ساتلے ھم ئی ٹال دے
راشہ ستا لیونے وس ھم پہ خپل حال دے
لیکن آج عید کے روز دریا کے ٹاپو میں کچھ نظر نہیں آتا۔ بس اتنا پتا چلتا ہے کہ یہ جھولے جسے یہ نوجوان ہاتھوں سے چلانے کے لیے بے تاب ہیں، کسی زمانے میں اُن کے بزرگ انہیں خوب چلاتے تھے۔ کیا وجہ ہے کہ اِن جوانوں نے عید کے روز سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چند ٹکوں کے لیے خود کو عذاب میں ڈالا ہے؟ کون سے احساس نے اُنہیں پُرکوں کی روایت کو زندہ رکھنے پر آمادہ کیا ہوا ہے، جس کی خاطر وہ صبح سے لے کر شام تک جھلستی گرمی میں کھڑے ہیں۔ تمام تر مصروفیات ترک کرکے اُنہیں ملتا کیا ہے؟ اوسطاً ایک ہزار روپے، جب کہ چار سو روپے تو روزانہ لکڑیوں کا کرایہ بنتا ہے۔ ایسے میں آپ ہی سوچیے! یہ شمعیں اور کتنی دیر تک باقی رہیں گی۔ کیا اس کی ٹمٹماتی لو میں اتنی سکت ہے جو مزید محفل کو روشنی دے سکے۔ جھولے یقینا بڑے بڑے پارکوں میں ہوں گے جو جدید بھی ہیں، اور آرام دہ بھی، لیکن اِن جھولوں سے تو ہمارا ثقافتی ورثہ عیاں تھا۔
جو مزہ قبرستانوں اور زیارتوں کے میلہ میں تھا وہ پارکوں میں کہاں؟ بیٹی انم اور بیٹے تلتاند، تم لوگ کہاں لے آئے ہو مجھے۔ دکھا دو مجھے وہ میلہ جسے مَیں بچپن میں دیکھا کرتا تھا۔ پہلے بھیڑ کی وجہ سے لوگ میلوں میں گھم ہوجاتے تھے، لیکن آج تو اُس جیسا میلہ ہی کہیں پہ نظر نہیں آتا۔ شاید بڑے بوڑھے اُسے اپنے ساتھ لے گئے ہوں۔ یا یہ ہم سے کہیں کھوگئے ہیں۔ جبھی تو تاریخ کے جھروکوں میں جھانک کر اُنہیں ڈھونڈنے کی کوشش کی، اور مجھے صرف جھولا ہی نظر آیا، جو بس خالی پڑا ہے۔
موقع مناسبت سے کچھ ٹپے ملاحظہ ہوں اور اس کے ساتھ اجازت طلب کرتا ہوں:
رازہ چی دواڑہ پہ ٹال زانگو
یابہ یاران شو یا بہ توری خاروے شونہ
دمینی ٹال د خیال زانگو دہ
سوک پہ کی زانگی پہ چا وشلیدل لڑونہ
د فکر ٹال دی رالہ جوڑ کڑو
تہ رانہ لاڑے زہ یوازی زنگیدمہ

Related posts

کس کا جشن منائیں گے؟

Ba Khabar Swat

An Article By Fazal Mahmood Rokhan

Ba Khabar Swat

توارد اور سرقہ میں فرق

Ba Khabar Swat

Leave a Comment