قارئینِ کرام! کیڈٹ کالج سوات اپنے نام اور مقام کے حوالے سے ایک خصوصی شناخت رکھتا ہے۔ جب کہ معیار، کارکردگی اور نظم و ضبط کے حوالے سے تعلیمی اداروں میں ایک روشن مینار کی طرح جگمگارہا ہے۔ 20 نومبر کو بعد از دو پہر 2 بجے یہاں حسنِ خطابت کا ایک شان دار مقابلہ منعقد ہوا۔ اس سادہ مگر پُروقار تقریب کے صدرِ محفل مٹہ کالج کے سینئر پروفیسر جناب اقبال احمد خان صاحب تھے۔ مہمانِ خصوصی کی نشست پر جہانزیب کالج کے پرنسپل جناب ممتاز علی شاہ صاحب رونق افروز تھے۔
اس شان دار حسنِ خطابت کے پروگرام میں جج حضرات کے فرائض جناب فضل کبیر صاحب پروفیسر جہانزیب کالج سوات، بخت زمین صاحب پروفیسر گورنمنٹ کالج خوازہ خیلہ، لطیف الرحمان لیکچرر سوات کالجیٹ سکول اینڈ کالج اور تصدیق اقبال بابو صاحب ممتاز کالمسٹ اور ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ پرائمری سکول گلی باغ ادا کررہے تھے۔ مجھے تصدیق اقبال بابو کی معرفت میں اس پروگرام میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔ مَیں اس خوبصورت پروگرام میں شرکت سے حقیقت میں لطف اندوز ہوا۔ یہ ایک یادگار اور شان دار محفل تھی جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔
تقریباً ڈھائی بجے ایک طالب علم کی تلاوت سے اس تاریخی پروگرام کا آغاز ہوا۔ مختلف نامی گرامی ایوانوں میں حسنِ خطابت کا مقابلہ تھا جس میں چار چار مقررین طلبہ نے اپنے زوردار انداز سے سامعین کو محسور کیے رکھا۔ سب سے پہلے انتظامیہ کے تین عدد طلبہ نے تقریری مقابلے کے لیے قواعد و ضوابط کا اعلان کیا۔ حیرانی اور حوصلہ افزائی کی بات یہ ہے کہ دورانِ خطابت ہر مقرر نے ان قواعد و ضوابط کا پاس بھی رکھا، جسے تمام حاضرینِ محفل کو ایک مثبت مثالی پیغام سمجھنا چاہیے۔ تمام مقررین نے اپنے موضوعات کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا۔ الفاظ کے انتخاب، محاوروں کے استعمال اور اپنے موزوں جسمانی حرکات و سکنات سے حاضرینِ محفل کو خوشگوار تاثرات سے حیرت زدہ کردیا۔ مقررین کی تقاریر خاصی دلچسپ، اثر انگیز اور حساس ترین موضوعات پر مبنی تھیں۔ جیسے…… ”مجھے حق ہے بولنے کا“، ”خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں“، ”علاقائی تعصب اور ملکی سالمیت“، ”وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا“، ”جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو“، ”مَیں اور صدر عالی وقار“، ”ثریا نے آسمان سے زمین پردے مارا“ جیسے گرما گرم موضوعات پر مقررین نے اپنے فنکارانہ جوشِ خطابت سے پورے ماحول پر ایک متاثر کن سماں باندھ لیا تھا۔ بعض جذباتی موقعوں پر طلبہ کی پُرجوش تالیوں کے شور سے پورا کالج گونج اٹھتا۔
مقررین طلبہ نے بہت محنت سے اپنی تقاریر تیار کی تھیں۔ جوش و جذبے کے ساتھ ہر مقرر نے پُرزور الفاظ میں اپنے موضوعات کی وضاحت کی اور اپنی معلومات اور تفصیلات سے سامعین کو محظوظ اور مستفید کیا۔ چار منٹ پر پہلی گھنٹی اور پانچ منٹ کی دوسری گھنٹی پر تقریر ختم کرنا ضروری تھا، لیکن مقررین نے چار منٹ کی پہلی والی گھنٹی بجنے پر تقاریر ختم کرکے پابندیِ وقت کا پورا پورا لحاظ رکھ کر اپنے منظم ہونے کا ثبوت بھی دے،جو لائقِ تحسین ہے۔
طالب علم محمد سلمان نے ”مَیں اور صدرِ عالی وقار“ کے موضوع پر لطیف پیرایہ میں مزاحیہ تقریر کرکے محفل کو زعفران زار کیا۔ اُس پر ہر طرف سے داد و تحسین کے ڈونگرے برسنے لگے۔ نشتر ہاؤس کے یہی محمد سلمان تھے جسے مقابلے میں پہلی پوزیشن مل گئی۔
جج حضرات کے نتائج کے حوالے سے مقررین میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کا اعلان کیا گیا۔سامعین نے پورے جوش و خروش سے تالیوں کی گونج میں انہیں داد دی۔ ہر جانب مبارک باد کے نعرے گونجنے لگے۔ تمام جیتنے والے طلبہ میں معزز مہمانوں کے ہاتھوں سے ایوارڈ تقسیم کیے گئے۔
مہمانِ خصوصی ممتاز علی شاہ پرنسپل جہانزیب کالج نے اپنی مختصر انگریزی تقریر میں پروگرام کو سراہا۔ طلبہ کو مبارک باد دی۔ صدرِ محفل جناب اقبال احمد خان پروفیسر مٹہ کالج نے بھی اپنے مختصر خطاب میں کامیاب طلبہ کو مبارک باد دی اور اُن کی حوصلہ افزائی کی۔
پرنسپل کیڈٹ کالج سوات بریگیڈیر (ر) جناب خالد نذیر صاحب بہت دھیمے لہجے اور ملنسار شخصیت کے حامل انسان ہیں۔ اُن میں بناوٹ، مصنوعیت نام کو بھی نہیں۔ وہ ایک پُروقار شخصیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے بہت دھیمے اور شیریں لہجے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سب مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ یہ کالج آپ سب کا ہے۔ آپ کو ہر وقت آنے کی دعوت ہے۔ انہوں نے صدرِ محفل اور مہمانِ خصوصی کو خوبصورت شیلڈوں سے نوازا۔ علاوہ ازیں پرنسپل صاحب نے تمام جج حضرات کا شکریہ ادا کیا اور سب کو بہ طورِ حوصلہ افزائی خوبصورت یادگاری ایوارڈ عطا کیے۔
وائس پرنسپل صاحب کی تعریف تو اپنے دوست تصدیق اقبال سے بہت سن رکھی تھی، مگر وہ اس روز موجود نہ تھے۔ اے کاش، اُن سے بھی ملاقات ہوپاتی۔
کیڈٹ کالج کی انتظامیہ اور تمام پروفیسران اپنے معزز مہمانوں کے ساتھ بہت عزت و احترام سے پیش آتے۔ بہ شمول ہمارے، ہر مہمان کی عزت افزائی کی گئی۔
مَیں خصوصی طور پر اُردو لیکچرار جناب امجد صاحب کا دلی مشکور ہوں کہ اُن کی خصوصی توجہ سے مجھ ناچیز کو بھی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ سموسوں، کباب، قسما قسم بسکٹوں اور چائے سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔ پرنسپل صاحب کے ساتھ خصوصی تصاویر کا موقع فراہم کیا گیا۔ تمام میزبانوں، استادوں، پروفیسر صاحبان خاص کر امجد صاحب، طاہر بوستان خیل کے خصوصی شکر گزار ہیں جنہوں نے عزت و احترام کے ساتھ گاڑیوں تک پہنچا کر ہمیں رخصت کیا۔
اس طرح سوات کیڈٹ کالج کے شان دار پروگرام، مہذب مہمان نوازی اور خوبصورت دلنشین چمن سے معطر ماحول کی یادیں دلوں میں بسائے ہم آہستہ آہستہ کیڈٹ کالج کے خوبصورت بڑے گیٹ سے باہر آکر اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔
