(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات کو آثار قدیمہ اور مختلف تہذیبوں کا گہوارہ کہا جاتا ہے۔اس کے بیشتر علاقوں میں قدیم آثار موجود ہیں۔ تحصیل بریکوٹ کے علاقہ شموزئی میں نیمو گرام میں 1900 سال پرانے آثار بہتر حالت میں موجود ہیں۔ 1900 سال پرانے ان آثار میں 3بڑے اور 56 چھوٹے سٹوپوں کے ساتھ ایک وسیع صحن اور خانقاہ موجود ہے۔ ماہرِ آثارِ قدیمہ فضل خالق کی کتاب ”اُدھیانہ: سوات کی جنت گم گشتہ“ میں وہ لکھتے ہیں کہ اس وقت چین اور وسطی ایشیا کے ممالک سے بدھ مت ماننے والے لوگ یہاں عبادت کے لئے آتے تھے۔ ان آثار کو 1967ء میں محکمہئ آثارِ قدیمہ پاکستان کے اہلکاروں نے کھدائی کے دوران دریافت کیا تھا۔ نیمو گرام میں 1900 سال پہلے اس وقت کے کاریگروں نے جس طرح تعمیرات کی ہیں، تو آج کے آرکیٹیک اور ماہر انجینئر بھی انہیں دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔ نیموگرام میں سٹوپوں کو جس طرح تعمیر کیا گیا ہے، اس طرز کی تعمیرات 3000 سال پرانے شہر”بازیرہ“میں بھی ملتی ہیں، جو تحصیل بریکوٹ میں واقع ہے۔ نیمو گرام کے آثارِ قدیمہ پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہیں جو ایک طرح سے سیاحتی علاقہ بھی ہے۔ نیمو گرام جانے سے ایک ٹکٹ میں دو مزے لئے جاسکتے ہیں۔ اکثر لوگ فیملی کے ساتھ جاکر وہاں پورا دن گزار آتے ہیں۔ نیمو گرام کے آثارِ قدیمہ تک پکا راستہ موجودہے۔ ریاستِ سوات کے دور میں والئی سوات نے یہاں ریسٹ ہاؤس بھی تعمیر کیا تھا۔
previous post
