(باخبر سوات ڈاٹ کام) جھیلوں کی وادی سوات میں ”مشروم“ کا شمار پاکستان کی اونچی، بڑی اور خوبصورت جھیلوں میں ہوتا ہے۔ فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں کے درمیان زمرد رنگ کے پانی کی یہ جھیل سطح سمندر سے 13 ہزار 5 سو فٹ بلندی پر واقع ہے۔ وادیِ کالام میں واقع اس جھیل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کالام سے براستہ اُتروڑ جانا پڑتا ہے جہاں سے کچی سڑک کا 11 کلومیٹر شاہی باغ یا گبرال کا سفر ایک سے اڑھائی گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ شاہی باغ سے آگے بھی کچا راستہ ہے مگر لوگ ہائیکنگکو ترجیح دیتے ہیں۔ گبرال سے جبہ ”بیس کیمپ“ تک پیدل سفر تین تا چار گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ جبہ کو بیس کیمپ بنا کر ٹریکر قیام کرنے کی غرض سے خیمے لگاتے ہیں اور کھانا تیار کرتے ہیں۔جبہ کے خوبصورت نظاروں سے محظوظ ہونا ایک ٹکٹ میں دو مزے کے مصداق ہے۔رات اس جگہ پر قیام کے بعد صبح سویرے اٹھ کر ناشتہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مشروم جھیل کے لئے سفر کا آغاز کیا جاتا ہے۔جھیل جانے والے ٹریکر نثار علی نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ راستے میں حسین نظارے، پہاڑوں سے پھوٹنے والے چشمے، بلند آبشار اور میٹھے پانی کی بل کھاتی ندی یہ کٹھن سفر آسان بنا دیتی ہے۔ جبہ سے جھیل تک 6 تا 7 گھنٹوں کے سفر کے بعد جیسے ہی ”مشروم جھیل“ پر نظر پڑتی ہے، تو جھیل کی خوبصورتی ساری تھکن اتار دیتی ہے۔ مشروم جھیل فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں پر واقع ہے۔ جھیل کے اِرد گرد اگست کے مہینے میں برف کے تودے(گلیشیر) پڑے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جھیل بہت بڑی ہے۔ اس لیے اس کے گرد مکمل گھومنا چند گھنٹوں کی بات نہیں۔جھیل جانے والے سیدو میڈیکل کالج کے سال دوم کے طالب علم عبدالباسط نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ جھیل جانے والوں کے ساتھ اپنے خیمے، خوراک، ضروری ادویہ، گرم کپڑے، چھتری، برساتی، چھڑی اور آکسیجن کی کمی کے لیے پیاز ضرور ساتھ لے جائیں۔ کیوں کہ راستے میں ہر دوپہر کے بعد بارش ہوتی ہے۔جھیل کا راستہ سخت ہونے کی وجہ سے مقامی ٹریکر طارق عزیز نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ جھیل جانے والے افراد کو اُتروڑ یا گبرال سے اپنے ساتھ مقامی گائڈ کو لے جانا ضروری ہے، تاکہ وہ راستے میں رہنمائی کے کام آسکے۔مشروم جھیل تک مئی تا اگست جایا جاسکتا ہے۔باقی مہینوں میں یہ برف سے اٹی پڑی رہتی ہے۔
previous post
next post
