(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات انتظامیہ نے کالج کالونی سیدو شریف میں آدھی رات کو خاتون پروفیسروں کو معذور بیٹے اور بچوں سمیت زبردستی سرکاری گھروں سے نکال دیا۔ کالج کالونی سیدو شریف کے سرکاری ہاؤس نمبر بی 9 گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج سیدو شریف کی گریڈ19کی پروفیسر مسماۃ بخت تسلیم کے نام الاٹ شدہ ہے۔ بخت تسلیم نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان اور ان کے شوہر کا اپنا ذاتی کوئی گھر نہیں۔ یہ گھر ان کو انتظامیہ نے قانونی طور پر الاٹ کیا تھا جس کا ماہانہ بیس ہزار روپے تک ہاؤس رینٹ ان کی تنخواہ سے کاٹا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آدھی رات کو انتظامیہ نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کو چودہ سالہ معذور بیٹے اور چار بیٹیوں کے ساتھ گھر سے زبردستی نکال دیا۔ اب ان کو کسی نے ایک کمرہ دیا ہے جس میں وہ مجبوراً رہائش پذیر ہیں۔ ہاؤس نمبر بی 8 سے بے دخل کئے جانے والی گرلز ڈگری کالج میں گریڈ 18کی لکچرار مسماۃ روزینہ نے بھی باخبر سوات ڈاٹ کام کو اس طرح کی کہانی سنائی اور کہا کہ ان کے شوہر بھی جہانزیب کالج میں لکچرار ہیں۔ ان کو یہ گھر قانونی طور پر الاٹ ہوا ہے۔ ان کے شوہر کی تنخواہ سے ماہانہ ہاؤس رینٹ کی مد میں کٹوتی کی جاتی ہے۔ ہم کو بچوں سمیت آدھی رات کو زبردستی گھر سے نکال دیا گیا۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر مینگورہ شوزوب احمد نے رابطہ پر باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ہائی کورٹ کے حکم پر جن مقامی لوگوں کے اپنے گھر ہیں اور وہ سرکاری گھروں میں رہائش پذیر ہیں، ان کو نوٹس دئے گئے تھے۔ اس لئے ان سے گھر خالی کرائے گئے۔ اس سوال پر کہ دونوں خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کا اپنا گھر نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کے اپنا گھر نہ ہونا ثابت ہوگیا، تو ان کو یہ گھر دوبارہ دئے جائیں گے۔
previous post
next post
