سوات(باخبر سوات ڈاٹ کام) پاٹا کی حیثیت کے خاتمے کے بعد اب ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام کو پانچ سال بعد بجلی، فون اور گیس کے بلوں میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔ ملاکنڈ ڈویژن اور کو ہستان کے عوام جب صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقے کا حصہ تھے، توان سے بجلی، فون اور گیس کے بلوں میں عدالتی حکم کے بعد ٹیکس نہیں لیا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ وہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ڈویژن بھر میں چلا سکتے تھے۔ اس کے علاوہ ادویات سے لے کر ہر چیز کی خریداری پر وہ ٹیکس ’’فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ‘‘ ادا کرتے تھے۔ ماہرین کے مطابق پانچ سال بعد اگر ان علاقوں میں ٹیکس نافذ ہوگا، تو یہاں کے عوام بجلی، فون اور گیس کے بلوں پر ٹیکس دیں گے۔ ساتھ میں ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے والوں اور بڑے مکانات اور فیکٹریاں رکھنے والے افراد کو بھی ٹیکس دینا ہوگا ۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پانچ سال بعد ٹیکس کے نفاذ کے بعد عام آدمی پر کچھ زیادہ فرق نہیں پڑے گا بلکہ مالدار لوگوں کو ٹیکس دینا پڑیگا
previous post
