(باخبر سوات ڈاٹ کام) وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان نے کہا ہے کہ گیم چینج سازش کے تحت قائم حکومت، خیبرپختونخوا کے فنڈز نہیں دے رہی۔ میں صوبے کا حق مانگ رہا ہوں، اگر نہیں دیا تو چھین کر لونگا۔ قبائلی اضلاع میں زیرو سے سٹارٹ لیا۔وہاں پر گذشتہ 70 سالوں میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کئے گئے۔ قبائلی عوام کے ساتھ 100 ارب روپے سالانہ کا وعدہ کیا گیا تھا۔ صرف 5 ارب روپے جاری کیے گئے۔ یک روزہ دورہئ سوات کے موقع پر خپل کور نرسنگ کالج کے افتتاح، ایس پی ایس کالج میں صوبائی سپورٹس ٹورنامنٹ کی تقسیمِ انعامات اور مینگورہ پولیس ٹریننگ سکول میں پہلی ٹورازم پولیس کے پاسنگ آوٹ پریڈ سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں پولیس اسٹیشن بنانے ہیں۔ پولیس کے لیے اسلحہ خریدنا ہے۔ امپورٹڈ حکومت بجٹ میں مختص حصہ نہیں دیگی، تو یہ سب کیسے ہوگا۔ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال امپورٹڈ حکومت کی وجہ سے ہے۔ وزیرِ دفاع ہماری پولیس اور سی ٹی ڈی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہمارے جوان فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں۔ ان پر تنقید کرنا میرے لیے نا قابلِ برداشت ہے۔ امپورٹڈ حکومت تنقید کے بجائے ہمارے فنڈز دے۔ خیبر پختونخوا کے لوگ امپورٹڈ حکمرانوں کے غلام نہیں اور نہ یہ خطہ انکا غلام ہے۔ خود اسلام آباد میں بیٹھ کر آرام کر رہے ہیں اور ہماری قربانیوں کا مذاق اُڑا تے ہیں۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ٹوارزم پولیس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب میں شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ کو ٹوارزم پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ 173 جوانوں پر مشتمل ٹوارزم پولیس کا پہلا بیچ پاس آوٹ ہوا۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے ٹریننگ میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے جوانوں میں شیلڈز تقسیم کئے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹورازم کے شعبے کا بجٹ بڑھایا ہے اور سیاحتی مقامات کی ترقی پر زور دیا ہے۔ عمران خان بذات خود سیاحت سے متعلق معاملات کی نگرانی کرتے ہیں۔ سیاحت کے شعبے کو ترقی دے کر ہی معیشت کو مستحکم بنا سکتے ہیں۔ گذشتہ سال 66 ارب روپے کا روینیو سیاحت کے شعبے سے آیا۔ ٹوارزم پولیس روایتی پولیس سے مختلف ہوگی۔ اس کا کام سیاحوں اور سیاحتی مقامات کی حفاظت ہے۔ سیاحت کے فروغ کے ذریعے ہی صوبے کے مثبت تشخص کو اجاگر کر سکتے ہیں۔ اس سے پہلے وزیر اعلیٰ نے شیراڑئی سیدو شریف میں خپل کور نرسنگ سکول اور ہیلتھ سائنس کی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا جس پر پندرہ کروڑ روپے لاگت آئیگی۔
previous post
