سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) مینگورہ شہر میں ایک ارب روپے سے زائد کے ڈویژنل بیوٹیفکیشن فنڈ میں جاری ترقیاتی کاموں میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔اس فنڈ سے مینگورہ بائی پاس روڈ جو ٹھیک حالت میں تھی، کو کروڑوں روپے لاگت سے دوبارہ تعمیر کیا جارہا ہے۔ گرین چوک سے پولیس لائن چوک تک سڑک جو انتہائی بہتر حالت میں تھی، اُس سڑک کو بھی کروڑوں روپے کی لاگت سے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ کالج کالونی سیدو شریف کی سڑکیں جن کی حالت انتہائی خراب تھی کو دوبارہ بہتر حالت میں تعمیر کیا گیا ہے لیکن کالج کالونی میں سرکاری افسروں کے بنگلے جہاں پر واقع ہیں، صرف ان سڑکوں کو تعمیر کیا گیا۔ لیڈیز پارک کالج کالونی سے لے کر گرلز ہائی سکول کالج کالونی سیدو شریف تک کی سڑک جو انتہائی خراب ہے، کو چھوڑ دیا گیا۔ سیدو، مینگورہ روڈ پر واقع اللہ اکبر کالونی جہاں پر نجی ہسپتال، نجی تعلیمی ادارے، سرکاری دفاتر اور رہائشی آبادی ہے، اس چند سو میٹر کی سڑک میں بڑے بڑے کھڈے بن چکے ہیں۔ مین روڈ پر واقع اس اہم روڈ کو اس پراجیکٹ میں تعمیر نہیں کیا گیا۔ پہلے سے ٹھیک سڑکوں کی دوبارہ تعمیر اور شہر میں انتہائی خراب حال سڑکوں کو نظر انداز کرنے پر اس پراجیکٹ اور زیر استعمال فنڈز پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔اس فنڈ میں مینگورہ شہر اور سیدو شریف میں اس سے پہلے بنائی گئی سڑکوں کے اطراف (شولڈر)جو بنے ہوئے تھے، کو دوبارہ توڑ کر تعمیر کیا جارہا ہے۔ ٹھیکیداروں کی جانب سے بجری، سیمنٹ کے بعد پانی نہ دینے کی وجہ سے پہلے سے ٹھیک ’’شولڈرز ‘‘ خراب ہورہے ہیں۔ ٹھیکیدار شولڈرز کو توڑنے والا ملبہ سڑکوں کے کنارے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ایک ارب سے زائد فنڈز میں لاکھوں روپے دیواروں پر پینٹنگ کرکے ضائع کر دیئے گئے۔ شہر میں بھاری فنڈز سے چوکوں کو تعمیر کیا گیا جن کو غلط ڈیزائن کیا گیا۔ نو تعمیر شدہ چوکوں میں ٹریفک پولیس اہلکار کھڑے ہوکر ٹریفک نہیں سنبھال سکتے۔ وہ سڑکوں پرکھڑے ہوکر ٹریفک سنبھالتے ہیں۔اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کا مؤقف جاننے کے لئے ڈپٹی کمشنر سوات شاہد محمود سے رابطہ کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ مینگورہ بائی پاس روڈ صرف 22 فٹ چوڑی تھی جس کو وسیع کرنے اور 50فٹ تک پہنچانے کے لئے اس کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ لیڈیز پارک سے گرلز سکول اور اللہ اکبر کالونی روڈ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ میں سڑکوں کی تعمیر کی نشان دہی ان کے تعینات ہونے سے پہلے کی گئی تھی۔ اس فنڈ میں بچت کے بعد ان سڑکوں کی تعمیر کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پر تعمیراتی کام کے بعد ’’شولڈرز‘‘ کو پانی نہیں دیا گیا ہے، اس بارے تحقیقات کی جائیں گی اور سڑکوں سے ملبہ ہٹانے کا آپریشن انتظامیہ نے شروع کردیا ہے۔
