Swat

کرتارپور کی طرح افغان بارڈر بھی کھول دیا جائے، میاں افتخار حسین

سوات (باخبرسوات ڈاٹ کام) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم اور ان کی ٹیم میں ملک چلانے کی صلاحیت موجود نہیں، عوام کمر توڑ مہنگائی سے تنگ آچکے ہیں، حکمرانوں کی خارجہ و داخلہ اور معاشی پالیسیاں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہیں، مسائل جنگوں سے نہیں بلکہ مذاکرات سے حل ہوسکتے ہیں، افغانستان امن مذاکرات میں افغان حکومت کو شامل کیا جائے، کرتار پور راہداری کھولنے کی حمایت کرتے ہیں، اسی طرح افغان بارڈر بھی کھول دیا جائے، اگر کرتارپور راہداری کو سابق بھارتی کرکٹرسدھو کی خواہش کے بجائے بھارتی حکومت کے ایما پر کھول دیا جاتا، تو اس سے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر ہوسکتے تھے، افراد کے بجائے حکومتوں کے ذریعے سفارتی تعلقات مضبوط ہوسکتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اے این پی کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری واجد علی خان، اے این پی کے صوبائی نائب صدر ایوب خان، ضلعی صدر شیر شاہ خان، خواجہ خان اور دیگر رہنما موجودتھے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ آج سے 40 سال پہلے باچاخان اور ولی خان کہتے تھے کہ ہمیں دوسروں کی جنگ میں حصہ نہیں لینا چاہیے، ان باتوں کو آج تسلیم کیا جارہاہے۔ اگر ان باتوں پر 40 سال پہلے عمل کیا جاتا، تو اتنی بڑی تباہی نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا وزیر اعظم کہہ رہا ہے کہ اب ہم کسی اور ملک کے لئے بندوق نہیں اٹھا ئیں گے، تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکمران دوسرے ملک کے لئے پہلے بندوق اٹھا چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں