ایڈووکیٹ نصیراللہ خانکالم

پاٹا، فاٹا اور قانون (گذشتہ سے پیوستہ) 

درحقیقت جب ہم آرٹیکل دو سو چھیالیس اور دو سو سینتالیس پڑھتے ہیں، تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ اول الذکر جس میں ان علاقوں کی تفصیل درج ہے۔مؤخر الذکر میں ان علاقوں کے لیے ریگولیشن اور پاٹا میں لاایکسٹینشن کے لیے قبائلی عوام اور قبائلی جرگے کی مرضی سے کوئی وفاقی یا دیگر صوبائی قوانین صدر کے اپروول کے بعد نوٹیفکیشن گورنر کی جانب سے اکسٹینڈ ہوتا ہے۔ البتہ ہوتا یوں تھا کہ پاٹا کے بہت سارے علاقے ریگولر قوانین کے نافذ ہونے کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ ہی قوانین پر عمل درآمد کرواتی تھی، یعنی ایک طرح سے صوبائی اور وفاقی قوانین کو لاگو کرنے کے لیے گورنر کا ایک نوٹیفکیشن درکار ہوتا تھا۔ یاد رہے کہ پاٹا کے ان علاقوں کو صوبے کے دائرہ اختیار اور انتظام میں پہلے سے لایا گیا تھا۔ تاہم صرف ٹیکسوں میں اس کو استثنا دیا گیا تھا۔ ٹیکسز سے استثنا کا مطلب ہر گز یہ نہیں تھا کہ یہاں کے عوام کل وقتی ٹیکسز نہیں دیں گے بلکہ جب تک ان کو مکمل طور پر صوبائی میگاپراجیکٹ اور دوسری بڑی مراعات نہیں ملتیں اور ان کی زندگی میں خاطر خوا ہ تبدیلی نہیں لائی جاتی، اس وقت تک ان پر ٹیکس لاگو نہیں ہوں گے۔ یاد رہے کہ یہی علاقے پسماندگی میں پاکستان میں انضمام سے پہلے والی صورتحال سے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ پائے ہیں۔ جو سہولیات انضمام سے پہلے اس وقت چھوٹی ریاستوں میں لوگوں کو میسر تھیں، وہی سہولیات اب وفاق اور صوبائی حکومت نہیں ڈلیور کر پا رہی۔ اس لیے جب پچھلی حکومت نے انکم ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا، تو عوام کا غصہ دیدنی تھا۔ تاجر برادری اور مختلف تنظیموں کے ساتھ سیاسی پارٹیوں نے بھرپور احتجاج کیا، جس پر مجبوراً حکومت کوانکم ٹیکس کا نوٹیفیکیشن واپس لینا پڑا ۔
دوسری طرف فاٹا کوپاٹا کے عوام، قبائلی جرگے اور سینٹ کمیٹی کی رپورٹ کے بغیر ہی مذکورہ علاقوں کے ساتھ ان کی آئینی اور خصوصی حیثیت کو ختم کیا گیا، جس سے پاٹا کے ساتھ ساتھ فاٹا میں بھی قوانین کے نفاذ کا مسئلہ پیدا ہوگیا، جو تاحال موجود ہے۔ اس میں سرِفہرست، نظامِ عدل اور ان ایڈ آف سول پاؤر ریگولیشن اور مجسٹریسی نظام ہے۔ میرا خیال ہے کہ مذکورہ ’’بل‘‘ کے پاس ہونے پر بھی یہ مسائل ایسے ہی موجود رہیں گے۔
سینٹ کی جس کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی تھی، اس میں پاٹا کے حوالے سے اس قسم کی کوئی کمیٹی نہیں بنائی گئی تھی۔ نہ یہاں کے عوام اور قبائلی جرگہ کی رائے ہی لی گئی تھی۔اس سب سے بالا غیر آئینی طور پر فاٹا کے ساتھ پاٹا کو بھی ختم کیا گیا۔ 1935 انڈیا ایکٹ، انڈپنڈنس ایکٹ اور 1956 کے آئین کے جملہ امور کو نظرانداز کیا گیا۔ 1948میں جو ریفرنڈم سرحد میں ہوا تھا، اس میں پاٹا کے بیشتر علاقے شامل نہیں تھے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوا جب مذکورہ آرٹیکل سے تمام مروجہ ریگولیشن ختم ہوئے۔ ایگزیکٹو مجسٹریسی جو کہ اب تک غیر قانونی و غیر آئینی طور پر اپنے اختیارات استعمال کر رہی ہے، مذکورہ ترامیم سے سیکنڈ اور تھرڈ کلاس مجسٹریٹوں کے اختیارات ختم ہوگئے ہیں، تاہم وہ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرسکتے ہیں۔ مذکورہ ترامیم سے ان کے اختیارات ختم ہوگئے ہیں، لیکن نہ جانے کون سے ادارے اور حکومتی قانون کے ذریعے سے تاحال وہی امتیازی قانون اب تک نافذ العمل ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مذکورہ قانون کی رو سے مجسٹریٹ خود پرچہ بھی کرواتا ہے اور خود مقدمہ بھی سنتا ہے؟ کوئی کس طرح خود اپنے خلاف مقدمے میں جج بن سکتا ہے؟
مذکورہ آرٹیکل کے ختم ہوتے ہی مختلف اداروں نے پاٹا میں عوام اور کاروباری افراد پر یورش کر دی ہے۔ ہر ایک ادارہ اپنا لائسنس لینے پر زور دیتا ہے جب کہ اس قسم کے کاموں کا لائسنس پہلے ہی سے لیا گیا ہوتا ہے۔ ایک ہی کام کے لیے دو دو قسم کے لائسنس اور جرمانے، شاباشے! یہ ہوتا ہے انصاف اور یہ کہلاتا ہے قانون!
حال ہی میں اب حکومت، مذکورہ ترامیم کے توسط سے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسز لگانے کا عندیہ دے چکی تھی، جس کو واپس لیا جاچکا ہے۔ اس عمل سے اس علاقے کے عوام میں مزید نفرت اور غصہ پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ اس لیے حکومت ہوش سے کام لے۔ یہاں پہلے سے جاری طالبانی شورش، طوفان، سیلاب اور زلزلہ کے بعد اس قسم کے اقدامات صوبائی و وفاقی حکومت سے دوری کا سبب ہوں گے۔ چوں کہ ملاکنڈڈویژن اور خصوصاً سوات میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور سوات سے وزیر اعلیٰ بھی منتخب ہوچکا ہے، اس لیے اس کو اپنے علاقے اور فاٹا کے عوام پر رحم کرنا چاہیے اور اس قانونی خلا کو پُر کرنے کے لیے فوری کوشش کرنی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں