وادئی سوات میں قدرتی رعنائیاں سال کے بارہ مہینے اپنے عروج پر ہوتی ہیں۔ اپنے فطری حسن سے سیاحوں کو ساری دنیا سے کھینچ لاتی ہے یہ وادی۔ اس طرح سیاحت سے علاقے کے عوام کی روزی روٹی وابستہ ہے۔ اگر ایک طرف قدرت نے وادئی سوات کی زرخیز زمین کو ہر قسم کے پھلوں اور سبزیوں کے لیے موزوں پیدا کیا ہے، تودوسری طرف سوات کو خالقِ کائنات نے صاف اور میٹھے پانی، جنگلات، مختلف قسم کی معدنیات اور ادویائی جڑی بوٹیوں جیسی نایاب وسائل سے بھی نوازا ہے۔ ماضیِ قریب میں سوات کا موجزن دریا اور صاف پانی کے علاوہ اس کی دل کشی اپنے لحاظ سے ایک منفرد اور ممتازمقام رکھتی تھی۔ اس طرح سوات کے لوگ جفاکش اور مہمان نواز بھی واقع ہوئے ہیں۔
ریاستِ سوات میں سیاحت کی ترقی کے لیے سرکاری طور پر ہوٹلنگ شروع کی گئی اور پرائیویٹ ہوٹلنگ کی ستائش اور معاونت حکومتی سطح پر کی گئی۔ ایسا نہیں تھا کہ سوات میں دیگر توانائیاں اور کار و بار ماند پڑ گیا تھا، لیکن دنیا کو مہذب اور تعلیم یافتہ سوات دکھانے کے واسطے والئی سوات نے سیاحت کو خصوصی دلچسپی سے آگے بڑھایا۔ جنگلات کو تحفظ دیا۔ کوئی درخت اکھاڑنے کا مجاز نہیں تھا۔ آگ کے لیے سوختنی لکڑی یا گھر بار کی مرمت کے لیے لکڑی باقاعدہ اجازلے کر استعمال میں لائی جاتی تھی۔ تمام سرکاری اور نئی تعمیرات انگلینڈ اور دیگر یورپیائی طرزِ تعمیر کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی تھیں۔ سواتی عوام بھی نئی تعمیر کے لیے نئے نئے نقشے بناتے اور تقریباً ہر گھر اور بلڈنگ ایک نئی شاہکار کے طور پر الگ حیثیت رکھتی۔ ہسپتالوں میں ہر قسم کے آلات اور مفت ادویات اور علاج معالجہ کی سہولیات موجود تھیں۔ ریاستِ سوات میں خصوصی بات یہ تھی کہ اس میں علاج اور تعلیم مفت مہیا تھی۔ طلبہ کو وظائف ملتے تھے اور روزانہ کی بنیاد پر طالب علموں کو کتابیں، خوراک اور دودھ بھی ملتا تھا۔ ہائیر ایجوکیشن کے لیے سرکاری وظیفہ دیا جاتا تھا۔ پُل اوربہتر سڑکیں ریاست کی شایان شان تھیں۔ ہر ایک گاؤں میں ڈسپنسریاں بنائی گئی تھیں۔ لوگوں سے صرف عشر اور زکوٰۃ لیا جاتا تھا، جس سے تمام ریاست کا کاروبار آسانی سے چلتا تھا۔ بازار میں عشری یا اس کے کارندے جو عشر لیتے تھے، وہ عین چوراہے اور زرعی زمین پر لوگوں کے مال سے عشر لیتے اور اس کو سرکاری خزانے میں جمع کرتے تھے۔ اس حوالہ سے ریاستِ سوات ہر لحاظ سے اپنی مثال آپ تھی۔ ریاست کی کہانی اب ہم ازکارِ رفتہ کے طور پر اور اس کے ساتھ ایک رومان یعنی محبت کے لحاظ سے بیان کیا کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کئی خرابیوں کے باجود وہ ایک بہترین نظام تھا۔ ہم ایسا اس لیے کہتے ہیں کہ اب ہمیں دوسرے نظام کی خوبیوں اور خرابیوں کے اندر رہ کر اور اس سے تقابل کرکے اندازہ ہوتا ہے۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ دریائے سوات کا پانی گندا ہوچکا ہے اور جنگلات ختم ہونے کو ہیں۔ اس کے تحفظ کے لیے حکومتی پالیسی نہ ہونے کے برابر ہے۔
ذرادیکھئے کہ اس طر ح کیسے ہوسکتا ہے کہ سوات کی زمرد کان میں بہترین زمرد کے ہوتے ہوئے بھی یہ ہر سال نقصان اٹھاتی ہے۔ یہ درست ہے اور اس طرف بھی حکومتی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ سوات میں معدنیات وافر مقدار میں موجود ہیں، لیکن شومئی قسمت کہ اس کے کارخانے ملک کے دیگر علاقوں میں بنائے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر سوات کی سڑکیں آثارِ قدیمہ کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ اگرچہ ان پر اب کچھ نہ کچھ کام ہو رہا ہے، لیکن ناقابلِ برداشت ٹریفک کی وجہ سے مذکورہ سڑکیں اگر ایک طرف جلدی خراب ہوجائیں گی، تو دوسری طرف بائی پاسز اور انڈر پاسز کا کوئی خاطر خواہ منصوبہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے بہتری کی بجائے ابتری ہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مینگورہ کی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے مینگورہ ’’خوڑ‘‘ کے دونوں اطراف موزوں ترین جگہیں موجود ہیں۔ ان پر فلائی اوورز یا بغیر ایکوزیشن عام سڑکیں بنا کر مینگورہ کو ٹریفک کی اذیت سے چھٹکارا دلایا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس دوسری طرف اس پر سوچنا ہوگا کہ اگر مینگورہ سوات میں کہیں بھی حکومت زمین حاصل کرے گی، تو اسے اس کی مارکیٹ کے مطابق قیمت جو کہ کروڑوں اور اربوں میں بنتی ہے، دینا پڑے گی۔
یاد رہے کہ مینگورہ شہر جیسے گنجان آباد علاقے میں ٹریفک کا نظام انتہائی ناقص ہے۔ شہری علاقے کے لیے ٹاؤن پلان ہے اور نہ کوئی شہری پلان۔ شہری ایزادگی کی وجہ سے تقریباً تمام تحصیل بابوزئی مینگورہ میں زراعت کے لیے کوئی زمین باقی نہیں رہی۔ اس لیے زرعی زمین پر آبادی کے خلاف قانون بنانا اہم ہوگا۔ دریا کی دونوں جانب کمرشل اداروں کی بھرمار اور سالڈ ویسٹ نے دریائے سوات کی رونق کو ماند کر دیا ہے۔ پکنک سپاٹ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ادارہ ٹی ایم اے آبادی کا گند اور سالڈ ویسٹ وغیرہ کو دریائے سوات میں پھینکتا ہے۔ ایک جگہ اس کاتعین ہوچکا، لیکن وہ ماحول دوست نہیں۔ تاہم اس کے لیے کوئی متبادل انتظام موجود نہیں۔سالڈ ویسٹ کے لیے ’’لینڈ فل سائٹ‘‘ واحد حل ہے کہ اسے ماحولیاتی نکتۂ نظر سے بنائے جانے کا پروگرام درکار ہوگا۔ دریائے سوات کا پانی اگر ایک طرف سوات لنڈاکی سے مہو ڈنڈ تک آباد بارہ لاکھ آبادی اور تمام سوات چوں کہ خوڑ اور پہاڑی نالوں کے قریب واقع ہے، اس لیے دریائے سوات انسانی فضلہ جات اور ٹھوس گندگی سے گندا بلکہ مکمل طور پر گندا ہوچکا ہے، دوسری طرف تمام کمرشل کارباری اداروں اور انڈسٹریز، کیمیکل، سالڈ ویسٹ، گرد اور زرعی فرٹیلائزر کے استعمال سے آبی حیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ کون اس کا خیال کرے گا؟ کوئی ہے جو دریائے سوات کا تحفظ کرے اور اس کے دونوں اطراف پر صاف پانی اور آبی حیات کے تحفظ کے لیے ایک چینل یا ندی جب کہ دوسری ندی سالڈ ویسٹ اور انسانی فضلہ جات کو بہ حفاظت وادی سے نکالنے کے لیے انتظام کرے؟
انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کو سیاسی حریفوں کی ٹانگ کھینچنے سے فرصت نہیں ملتی۔ عوام اپنی روزی روٹی کے لیے پریشان اور خوار ہو رہے ہیں۔
ہمارے خپل وزیر اعلیٰ صاحب جانتے ہیں کہ سوات میں کون کون سے وسائل ہیں اور انہیں بروئے کار لانے سے کیا انقلاب برپا ہوسکتا ہے؟ اگر کچھ نہیں تو بس ایک معمولی سی توجہ نہیں ہے۔
ہمارے خپل وزیر اعلیٰ صاحب! اگر سوات کی ترقی اور اس کی بہتری کے لیے صدقِ دل سے کام کیا جائے، تو کوئی امر مانع نہیں کہ یہاں بہتری نہ آئے۔ امید ہے میری اس گزارش کو ردی کی ٹوکری کی نذر نہیں کیا جائے گا، والسلام!
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
