قانون کا اصول ہے کہ جب تک انصاف دکھائی نہیں دیتا، اس وقت تک انصاف نہیں ہوسکتا۔ یہ بھی اصول ہے کہ جب کوئی دادرسی کا متلاشی ہوتا ہے، تو اس کو صاف ہاتھوں سے عدالت کے ساتھ رجوع کرنا ہوتا ہے۔ انصاف میں تاخیر بے انصافی ہے، جب کہ اس کے برعکس انصاف میں تیزی کرنا اس کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔ قانون باخبر کا ساتھ دیتا ہے، یہ لاعلم اور سست افراد کا ساتھ نہیں دیتا۔ جو عدالت سے دادرسی لینا چاہے گا، وہ انصاف اپنے ہاتھوں سے جانے نہ دے گا۔ قانون مستعد اور چست فرد کے ساتھ ہوتا ہے، جب کہ اس کے برخلاف سست اور کاہل اپنا حق کھو دیتا ہے۔قانون میں فرد اور افراد دونوں کو سننے کا رواج ہوتا ہے۔ کوئی شخص اپنے خلاف مقدمے کی سماعت نہیں کرسکتا۔ بغیر سنے کسی کو بھی موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ کسی کیس میں قانونی سقم اور دیگر غلط امور کا پتا چل جانے پر اسے فوری طور دفن کیا جانا قانون ہے۔ قانون کی نظر میں سب انسانوں کے حقوق ایک جیسے ہیں۔ کیوں کہ سب انسان ایک جیسی فطرت پر پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی ضروریات بھی ایک جیسی ہوتی ہیں۔کسی کو دوسرے پر رنگ،نسل، رتبہ، مرتبہ یا علم کی وجہ سے فوقیت حاصل نہیں۔ البتہ اہلیت اور صلاحیت ایک ایسی چیز ہیں جو انسان کا رتبہ اور مرتبہ ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ کسی خاص جگہ میں رہنے کی وجہ سے یا کسی کسبی ہنر اور ذات سے کسی کا رتبہ چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ اگر یہ کہا جائے، تو بے جا نہ ہوگاکہ انسان قدرتی طور پر حاسداور حریص واقع ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علم کی قدردانی ہوتی ہے اور نہ انسانوں کی اہلیت، پرہیز گاری اور صلاحیت کا احترام ہی کیا جاتا ہے۔عزت اور تکریم کا ایک ہی معیار ہے اور وہ ہے کہ جب کوئی پرہیزگاری اور بہترین کردار میں سب سے آگے ہو، اس کو اتنی ہی عزت دی جائے ۔جب وہ اپنے مفادات کو چھوڑ کر دوسرے انسانوں کا دکھ اور غم اپنا سمجھتا ہو، تو اس کی ستائش کا قانون احترام کرتا ہے ۔
یہ درست ہے کہ جب کبھی کسی انسان سے کچھ غلطیاں اور گناہ سرزد ہو جائے، تو قانون میں اس کا مواخذہ موجود ہے، جس کے مطابق اس کو اس کو سزا و جزا کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔ البتہ یہ بات اپنے طور پر بھی درست ہے کہ اس کو انسانیت کے درجے سے نیچے گرانا انسانیت نہیں، بلکہ حیوانیت ہے۔ دوسرے الفاظ میں ان کو قانونی حقوق دینا، ایک جرم میں ان کو ایک ہی سزا دینا جب کہ دوہری سزاؤں سے نجات کا قانون بھی موجود ہے۔ قانونی مشینری اس لیے عمل میں لائی جاتی ہے کہ اپنے شہریوں کو حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔
قانون اصولوں کا وہ مجموعہ ہے جو حکومتی اداروں اور دیگر اداروں کے ذریعے عمل میں لایا جاتا ہے۔ دراصل قانون عوام کی مرضی اور منشا کے مطابق ہوتا ہے، جو اسٹیٹ نافذالعمل کرواتا ہے۔ قانون کے نافذ العمل ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ معاشرہ میں بے چینی کو ختم کرنے اور امن و امان کو برقرار رکھا جائے۔دوسرے لفظوں میں ’’لا اینڈآرڈر سچویشن‘‘ کے ساتھ نمٹا جاتا ہے ۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ فرد کے معاشرتی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
دوسری طرف قانون اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دوسرے شخص، ادارے،تنظیم یا حکومتی اہلکار یا جو کوئی بھی شکل ہو، کے متعصب رویہ سے تحفظ دیا جاسکے۔ قانون معاشرے پر براہِ راست اثرات کو تشکیل دے کر سماجی تبدیلی کے سلسلے میں ایک اہم اور مستحکم کردار ادا کرتا ہے۔اس کو ایک مثال کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے، تاکہ سماجی تبدیلی کو یقینی بنایا جائے۔ اس لیے حکومت، تعلیم اور صحت کو اپنے معاشرے کو صحتمند اور سمجھدار بنانے کے لیے ضروری خیال کرتی ہے۔اس کے برعکس مختلف قسم کی پابندیوں سے معاشرے میں موافقت اور بے چینی کو ختم کیا جاتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کسی بھی معاشرے میں قانون کی حکمرانی ہو، تو چاہے اس معاشرے میں تعلیم کی کمی بھی کیوں نہ ہو، پھر بھی معاشرہ سماجی تبدیلی اور ترقی کے اہداف حاصل کرتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ قانون کی پابندی کی جائے اور کسی بھی صورت قانون کو نہ توڑا جائے۔ہر حال میں قانون کو مدنظر رکھا جائے، تاکہ کسی کے حقوق متاثر نہ ہوں۔ قانونی نظام، معاشرہ میں زندگی کے تمام گوشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ معاشرتی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر قانونی نظام کے ذریعے سزا اور جزا دی جاتی ہے۔قانون اور ترتیب سے انقلابی تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ جو امپلیمنٹنگ اتھارٹی ہوتی ہے، وہ خود اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کرے اور اگر کوئی شخص یا ادارہ اپنی حدود اور اختیارات سے تجاوز کرتا ہے، تو قانون اور انصاف کے زریں اصولوں کے مطابق اس کے لیے سزائیں تجویز کی جاتی ہیں۔
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
