روح الامین نایابکالم

قبرستانوں کی حفاظت

مجھے نہیں معلوم کہ ہمارا ہر کام اور ہر طریقہ غیر منظم اور بے ڈھنگا کیوں ہوتا ہے، ہم زندگی کے ضروری اور اہم کاموں کو اہمیت کیوں نہیں دیتے؟ پھر وقت آنے پر غیر ذمہ داری کی وجہ سے ہم پریشانیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ضرورت کے لیے حیرانی اوربے سرو سامانی میں کبھی اِدھر کبھی اُدھر بھاگتے رہتے ہیں۔ ہماری عادات عجیب ہیں، جب تک پانی سر سے اونچا نہ ہوجائے، ہم ہوش میں نہیں آتے۔ ہٹ دھرمی، موقع پرستی اور غیر منظم انداز میں ہم اپنی اہم ضرورتوں کو اتنے رف طریقے سے استعمال کرتے ہیں کہ بعد میں ہمیں احساس ہوجاتا ہے کہ ہم نے بے ترتیبی میں سب کچھ خراب اور تباہ و برباد کردیا ہے۔
قارئین، جب بھی قبرستان کا ذکر ہوتا ہے، نہ جانے کیوں مجھے پشاور کا گورا قبرستان یاد آجاتا ہے۔ یہ قبرستان پشاور شہر سے یونیورسٹی روڈ پر تہکال پایاں کے قریب آباد ہے۔ یہ انگریزوں کے دور کا قبرستان ہے، لیکن یہ اتنا صاف، ستھرا اور خوب صورت ہے کہ یہ قبرستان کم اور پارک زیادہ لگتا ہے۔ اس میں خوبصورت بینچ بنے ہوئے ہیں۔ تاکہ لوگوں کو بیٹھنے کی سہولت میسر ہو۔ خوبصورت کتبے جو ہر قبر پر ترتیب سے لگے ہوئے ہیں اور بڑی اور اہم بات کہ تمام قبرستان کے ارد گرد مضبوط چار دیواری بنی ہوئی ہے۔ دوسری طرف ہمارے قبرستان۔۔۔ کوئی پرسان حال نہیں، کوئی چار دیواری نہیں۔ صفائی اور حفاظت نہیں۔ کوئی طریقہ اور ترتیب نہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ مسلمانوں کا زندگی میں کوئی طریقہ یا ترتیب نہیں، تو موت اور دفن میں کیا ترتیب اور طریقے اپنائے جائیں گے۔
دوسری اہم شے وہ بے حسی، لالچ اور مفاد پرستی ہے کہ قبرستانوں کی زمینوں کے ساتھ جس کسی کی بھی ذاتی جائیداد، گھر یا کھیت کھلیان ہیں، وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ کسی طریقے سے اپنے کھیت کھلیاں یا گھر میں قبرستان کی زمین کو قبضہ کرکے شامل کرلے، بالفاظِ دیگر اپنے دفن ہونے کے لیے زمین نہ چھوڑی جائے۔ تو بھائی سوال یہ ہے کہ پھر موت آنے پر تمہیں ہندوؤں کی طرح جلایا جائے یا کسی سمندر، دریا میں پھینکا جائے؟
کون سا طریقہ اچھا رہے گا؟
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ منگلور کے آس پاس قبرستانوں کے ساتھ بھی یہی حشر ہوا ہے۔ مزید یہ خطرہ بڑھ رہا تھا کہ منگلور کے قبرستانوں پر قبضہ مافیا رفتہ رفتہ قبضہ جمائے لیکن وہ تو اچھا ہوا کہ منگلور قومی جرگہ کے اراکین کو ہوش آیا، اور انہوں نے اس بارے میں چند ناگزیر اقدامات کا بیڑا اٹھایا۔ ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا گیا اور فوراً عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جن حضرات نے قبرستان کی حدود پر قبضہ کیا تھا، ان پر مکان، راستے، دیواریں تعمیر کی تھیں، انہیں خالی کرنے یا معاوضے ادا کرنے کا کہا گیا۔ چناں چہ اُن سے معاوضہ لیا گیا۔ مینگورہ مدین روڈ پر وسعت اور کشادگی کا کام شروع ہے لہٰذا سڑک کنارے جو درخت اور شجر کاٹے گئے، وہ قبرستان کی ملکیت تھے، لہٰذا وہ پیسے منگلور قومی جرگہ نے اپنی تحویل میں لیے۔ اس طرح تقریباً 18 لاکھ روپے کے بجٹ سے سب سے پہلے قبرستانوں کے ارد گرد چار دیواری کا کام شروع کیا گیا۔ نواز شریف کڈنی ہسپتال کے ساتھ مین شاہراہ پر آس پاس جتنے بھی قبرستان ہیں، ان سب کے ارد گرد چار دیواری تعمیر کی جائے گی۔ اک آدھ مضبوط گیٹ بنائے جائیں گے، تاکہ گاڑیوں اور مویشیوں کے قبرستان کے اندر جانے کا راستہ روکا جاسکے۔ ایک چوکیدار بھی رکھا جائے، تاکہ باہر سے آئی ہوئی میتوں کو دفنا نے سے روکا جاسکے۔
منگلور کا قومی جرگہ اس کام کے حوالے سے نہایت سنجیدہ ہے اور اُن کے یہ اقدامات خوش آئند ہیں اور سراہنے کے لائق ہیں۔ اس کام کے حوالے سے چوں کہ فنڈ کی کمی محسوس کی جا رہی ہے، لہٰذا اس کمی کو پورا کرنے کے لیے قومی جرگے نے عوام سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لہٰذا کچھ دنوں سے منگلور قومی جرگے کے نمائندے مساجد میں جاکر عوام کو تمام صورت حال سے آگاہ کرتے ہیں، اور ساتھ مالی تعاون یا چندہ دینے کی بھی اپیل کرتے ہیں۔ حوصلہ افزائی کی بات یہ ہے کہ عوام نے ان اقدامات کی تعریف کی ہے، اور ہر قسم مالی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اس کالم کے ذریعے منگلور کے تمام عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ منگلور قومی جرگہ پر اعتماد کریں اور اچھے، تعمیری کاموں میں ان کا بھر پور ساتھ دیں۔ کیوں کہ عوام کے تعاون کے بغیر کوئی بھی مسئلہ حل ہوسکتا ہے، نہ کوئی منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں