روح الامین نایابکالم

ختم نبوت (اک تأثر)

قارئین کرام! ختمِ نبوت ہمارے ایمان کا جزو لائنفک ہے۔ بے شک محمدؐ آخری نبی ہیں اور آپؐکے بعد دنیا میں کوئی نبی نہیں آنے والا، لیکن اسلامی تاریخ میں بہت سے جھوٹے دعویداروں نے نبوت کے دعوے کیے ہیں جن میں ’’احمدی‘‘، جسے ’’قادیانی‘‘ بھی کہتے ہیں، شامل ہیں۔ یہ فتنہ انگریزوں کے دور سے شروع ہوا، تاکہ مسلمانوں میں نفاق پیدا کیا جاسکے۔
’’ختمِ نبوت‘‘ نامی کتاب کے مصنف عبدالکریم بریالے صاحب اس بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’مرزا غلام احمد کی پیدائش 1839ء میں ہوئی تھی۔ اس کے والد مرزا غلام مرتضیٰ نے 1857ء کی جنگِ آزادی میں انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔ پچاس سپاہی اور گھوڑے انہیں فراہم کرچکے تھے اور بعد میں 85 گاوؤں کی جاگیر بھی حاصل کرچکے تھے۔ سنی مسلمانوں میں غلام احمد قادیانی جو مرزائی بھی تشخص رکھتے ہیں، اور شیعہ مسلمانوں میں محمد علی باب جو باسیوں یا بہائیوں کے نام سے وجود رکھتے ہیں۔ دونوں مذہبِ اسلام کی ضد میں دعوۂ نبوت کے نام وکٹورین زمانے کا ایک گہرا منصوبہ تھا اور اس پر آج تک یورپی اور امریکی عیسائیت کے علمبردار مختلف ناموں سے ان کی سرپرستی کرتے رہے ہیں۔
قارئین کرام! چار سو دو صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت اور جامع کتاب اُستاد، عالم و فاضل شخصیت عبدالکریم بریالے نے تحریر کی ہے۔ عبدالکریم بریالے، پشین بلوچستان کے رہنے والے ہیں۔ وہ کاکڑ پشتون ہیں۔ بہت پیارے اور ملنسار انسان ہیں۔ وہ سابق بیوروکریٹ رہے ہیں اور مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ عبدالکریم بریالے کا تعلق مشہور علمی گھرانے ملا ظریف اخوند کا کڑ سے ہے۔ بریالے صاحب نے پشتو گرائمر پر ’’پختو دود‘‘ لکھ کر بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔
پشتو زبان میں محمد ہوتک کی پہلی تاریخی کتاب ’’پٹہ خزانہ‘‘ کو جب افغانستان کے علامہ عبدالحئ حبیبی نے دریافت کیا، تو پشتو ادب میں ایک انقلاب برپا ہوگیا۔ مشہور عالم اور محقق قلندر مومند نے ’’پٹہ خزانہ فی المیزان‘‘ لکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ ’’پٹہ خزانہ‘‘ اصلی نہیں بلکہ جعلی ہے، تو یہ جناب عبدالکریم بریالے ہی تھے جنہوں نے قلندر مومند کی مخالفت میں ’’پٹہ خزانہ حقیقت کے آئینے میں‘‘ لکھ کر قلندر مومند اور اُس کے دوسرے ساتھیوں کو دندان شکن جواب دے کر یہ ثابت کرنے کی مقدور بھر کوشش کی کہ عبدالحئ حبیبی کی دریافت شدہ ’’پٹہ خزانہ‘‘ ہی اصل کتاب ہے۔ انہوں نے قلندر مومند کے ساتھ ساتھ سید گوہر اور مشتاق مجروح جیسے تمام مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے اسماعیل گوہر جیسے عالم و فاضل شخص کو اس طرف راغب کیا کہ وہ ’’پٹہ خزانہ‘‘ کا اردو ترجمہ کریں، چناں چہ اسماعیل گوہر نے ’’گنج مخفی‘‘ کے نام سے ’’پٹہ خزانہ‘‘ کا اردو ترجمہ کیا، جو ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔
عبدالکریم بریالے نظم و نثر دونوں کے ماہر ہیں۔ وہ زیادہ تر تحقیق کے میدان کے شہ سوار ہیں۔ بریالے صاحب کے وہ تحقیقی مقالے جو کتابی شکل میں شائع ہوئے ہیں، وہ درجہ ذیل ہیں۔
* علامہ عبدالحئ حبیبی کی روح کے سائے میں۔
* بایزید خیر البیان محققین کے مقالوں کا تجزیہ۔
* اشرف غمگین شخصیت اور رسم الخط پر مقالہ۔
یاد رہے کہ یہ تینوں مقالے ’’تحقیق و تنقید‘‘ پر اعلیٰ پائے کے تجزیے اور تاثرات ہیں۔ اس کے علاوہ ایک شعری پشتو مجموعہ ’’موسمونہ خاندی‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے جب کہ ’’حال وقال‘‘ بھی تنقید ہے۔ اس طرح ان کے اور بھی بہت سی تخلیقات منظر عام پر آچکی ہیں، جن کا مجھے علم نہیں، لیکن جو انہوں نے لکھا، شاہکار لکھا۔ اُن کی تخلیقات فنی، علمی اور تحقیقی لحاظ سے بھر پور ہیں۔
عبدالکریم بریالے صاحب ہمیں پشاور میں ایاز اللہ ترکزی کے اشاعتی دفتر میں ملے۔ انہوں نے بے حد محبت دی۔ بقولِ طاہر بونیرے، بلوچستان کے جتنے بھی ادیب، مصنف اور دانشور ہیں۔ وہ بہت خلیق اور ملنسار ہیں۔ سادہ مزاج رکھتے ہیں۔ راہ و رسم میں کوئی سرد مہری اور مصنوعیت نہیں۔ واقعی بریالے صاحب سے ملاقات میں ہم نے ایسا محسوس بھی کیا، کہ جیسے وہ ہمیں برسوں سے جانتے ہوں۔ وہ علم کے سمندر اگر نہیں تو دریا تو ضرور ہیں۔ بہت وسیع مطالعہ ہے اور ہر موضوع پر سیر حاصل گفتگو کرسکتے ہیں۔
موجودہ کتاب ’’ختمِ نبوت‘‘ 2018ء میں اعراف پرنٹرز نے شائع کی ہے۔ ہماری خوش نصیبی ہے کہ عبدالکریم بریالے نے مجھے اور تصدیق اقبال بابو کو خود اپنے ہاتھوں سے بہ طورِ تحفہ یہ عنایت کی۔ اس کتاب میں 1857ء سے لے کر موجودہ دور تک جھوٹے نبوت کی ساری داستان خصوصاً غلام احمد مرزا کی نبوت کی ہر زہ سرائیاں موجود ہیں۔ اس احمدی جھوٹی نبوی تحریک کو ’’قادیانی‘‘ اس لیے کہتے ہیں کہ بہ قولِ عبدالکریم بریالے: ’’قادیان مرکز کو مضبوط بنانے میں وائس رائے اور دیگر سرکاری افسران پیش پیش تھے۔ وائس رائے کے قادیان جانے کا ارادہ بھی اسی سیاسی مقصد کا حصہ تھا، جسے مقامی آفسروں نے رد کیا تھا۔‘‘ (جاری ہے)

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں