روح الامین نایابکالم

تار تار پڑونے (تبصرہ)

دَ وخت سیلئی مے سادر تار پہ تار کڑو
د جاڑو بوٹو نہ ریخے ٹولووم
”تار تار پڑونے“ شاعرہ زاہدہ مسکان خٹک کا پشتو شعری مجموعہ ہے جو اگست 2016ء میں منظر عام پر آچکا ہے۔ کتاب میں غزل اور نظم دونوں پر طبع آزمائی ہوچکی ہے۔ ان کی شاعری میں پختون تہذیب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ پختون پر بحیثیتِ قوم ظلم اور زیادتی کے بیانیہ کو شاعری کا خوبصورت جامہ پہنایا گیا ہے۔ اس بارے میں مرحوم افضل خان لالا کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”زاہدہ مسکان عالمی انسانیت کو عمومی اور اپنے وطن کو خصوصی طور پر امن کا پیغام دینا چاہتی ہے۔ یہ اپنی شاعری کو سچائی کا رنگ دے رہی ہے اور مثبت تبدیلی چاہتی ہے۔ وہ پختون سماج کی عورت کو جہالت اور رسم و رواج کی پابندیوں اور زِنداں کی چوکھٹ سے باہر لانا چاہتی ہے، تاکہ عورتوں کو اپنے حقوق کا علم ہوجائے۔
دلتہ رواج د ایمان جز دے بغاوت ترے نشی
ماشومے لونڑہ د خپل پلار پہ فیصلہ خرسیگی
منگلور سوات کے مشہور دانشور، مصنف، نقاد اور ماہر لسانیات جناب محمد پرویز شاہین کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ اس طرح رقم طراز ہیں کہ ”زاہدہ مسکان خٹک کا کلام دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اور عوام نے پسند کیا ہے۔ مسکان کی شاعری میں رنگینی، روانی اور مقصدیت کے ساتھ ساتھ جدت بھی نظر آ رہی ہے۔ یہ امن پسند شاعرہ خوشحالی اور سکون صرف پختون قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے مانگ رہی ہے۔ اُس کی شاعری میں سماجی انصاف، غریب عوام کی حالت زار اور انسانی بھائی چارے کا ذکر نمایاں ہے۔ عورتوں کے حقوق، زور، جبر، دہشت سے نفرت، ملت و قوم کی آزادی، اُمنگوں اور ولولوں کے موضوعات کو غزلوں اور نظموں کی دلکش مالا میں پرویا گیا ہے۔ زاہدہ مسکان خٹک کی شاعری وزن اور بحر کے معیار پر پورا اترتی ہے۔
زما سادہ شعرونہ آئینہ زما د ژوند دہ
کتونکی چی ورگوری خپل مخونہ ورتہ خکاری
پروفیسر ڈاکٹر محمد زبیر حسرت، زاہدہ مسکان خٹک کی محبت، وفا اور حیا کی تین نشانیوں اور صفات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور بجا فرماتے ہیں کہ مسکان کی شاعری میں صرف رومانیت نہیں بلکہ مقصدیت بھی ساتھ ساتھ رواں دواں ہے۔ انہوں نے سماج اور ارد گرد ماحول سے جو تاثر لیا ہے، اُسے خوبصورتی کے ساتھ اپنی شاعری میں سمویا ہے۔“
پہ خہ بد پوھہ نہ وے او بے غمہ شانی ژوند وے
ٹول عمر نادانی وے شاہی وخت مے تیرولے
یا ژوند د پیغلتوب وے چی غرور وے او مستی وے
سرور وے او نشہ وے سرہ بنگڑی مے شڑنگولے
پروفیسر ڈاکٹر سعادت خان ساغر خٹک، زاہدہ مسکان خٹک کی ذاتی زندگی کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”زاہدہ مسکان خٹک الحاج سراج الدین صافی کی بڑی بیٹی ہے، جس کا تعلق افغانستان سے ہے۔ یہ خاندان تقریباً چالیس پینتالیس سال پہلے ہجرت کے ایک قافلہ میں پاکستان آیا تھا اور تب سے چکدرہ ضلع لوئر دیر میں قیام پذیر ہے۔ یہ پشت در پشت عالم اور فاضل چلے آرہے ہیں۔“
زاہدہ مسکان خٹک یکم جنوری سال 1990ء کو چکدرہ میں پیدا ہوئیں۔ ایف اے تک تعلیم چکدرہ میں حاصل کی جبکہ دینی مدرسہ سے دینی تعلیمات بھی پڑھی ہیں۔ 12 جون سال 2014ء کو چکدرہ میں مشہور شاعر اور ادبی شخصیت محمد سرور خٹک کے ساتھ ان کی منگنی ہوئی اوررشتہئ ازدواج میں خٹک صاحب کے ساتھ منسلک ہوگئیں۔
زاہدہ مسکان، محمد سرور خٹک صاحب کو پیار سے ”خان جی“ بلاتی ہیں اور اسی محبت اور لازوال تعلق کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ فخریہ انداز میں ”خٹک“ بھی لکھتی ہیں۔ زاہدہ مسکان خٹک کے نام سے بلانے پر خوشی محسوس کرتی ہیں۔ محمد سرور خٹک خود پشتو ادب کی مشہور شخصیت ہیں۔ کافی عرصے سے پشتو زبان اور پشتو ادب کی خدمت کو اپنا فرضِ اولین سمجھتے ہیں۔ وہ اس بے لوث خدمت کا کسی سے کوئی صلہ مانگتے ہیں۔سمجھتے ہیں کہ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں نہ کہ کسی پر احسان کر رہے ہیں۔
زاہدہ مسکان خٹک کو سکول کے زمانے سے شعر و شاعری سے دلچسپی تھی۔ ابتدا ہی سے دینی اور ادبی کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ رات گئے تک مطالعہ میں مشغول رہتی تھیں۔ اتنی کم عمری میں سنجیدہ سوچ و فکر کے ساتھ مقصدی اور گہری شاعری کرنا واقعی حیرانی کی بات ہے۔ اُن کا ہر شعر اپنی جگہ پر ایک انتخاب ہے۔ ہر شعر پڑھنے اور سننے کے لائق ہے۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ شاعری کے ساتھ وہ نثر میں بھی لکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ مستقبل میں ان کے افسانوں کی کتاب منظر عام پر آنے کی اُمید ہے۔
مَیں زاہدہ مسکان خٹک کو اس کے پہلے شعری مجموعے پر دل سے مبارک باد دیتا ہوں اور شکر گزار ہوں کہ اُس نے اپنی کتاب مجھے عطیہ کی۔
زاہدہ مسکان کے اس قطعہ کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ
د وخت طوفان، زول او سیلی می اودرولے نشی
قدم مے ایخے د پختو ژبی خدمت د پارہ
زہ د میوند د پختنی ملالے خور زاہدہؔ
ٹپہ کومہ د پختون قام د وحدت د پارہ

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں