سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات میں اقرا واوچر تعلیمی منصوبے کے تحت فنڈ کی بندش سے 8 ہزار طلبہ وطالبات کا مستقل داؤ پر لگادیا گیا۔ نجی اسکولوں کے مالکان اور بچوں نے مینگورہ میں دھرنادیا اور تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کے دعوے کرنے والی تبدیلی سرکار کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ اسکول مالکان نے حکومت کو 30ستمبر تک ڈیڈلائن دیتے ہوئے بچوں کو بغیر سرٹیفکیٹ کے سکول سے نکالنے اور وزیر اعلیٰ کے گھر کے سامنے دھرنادینے کاا علان کردیا۔ نجی اسکول مالکان اور سیکڑوں بچوں نے بینرز اور کتبے اٹھائے نشاط چوک مینگورہ میں دھرنادیا جہاں مقررین قاسم خان،اظہار اللہ اور دیگر نے کہاکہ سال 2015ء میں خیبر پختونخوا حکومت نے اسکول سے باہر بچوں کے لیے اقراء واوچر منصوبے کا اعلان کیا اور پورے صوبے میں 1030 اسکولوں کا انتخاب کرکے 84 ہزار بچوں کو داخل کرایا گیا، جس کے لئے ہم نے اضافی اساتذہ تعینات کیے۔ سوات میں ان اسکولوں کی تعداد 136ہے۔ ان اداروں میں 8 ہزار بچے زیر تعلیم ہیں لیکن گذشتہ 19 ماہ سے حکومت کی جانب سے فنڈ بند کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر 30 ستمبرتک انہیں ان کی واجب الادا رقم 48 کروڑ روپے جاری نہ کی گئی، تو وہ ان بچوں کو بغیر سرٹیفکیٹ کے خارج کرانے پر مجبور ہوں گے۔ اس موقع پر تعلیم کے لئے کام کرنے والے ڈاکٹر جواد اقبال اور والدین نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں پہلے ہی 25 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں اور اگر یہ بچے بھی تعلیم سے محروم رہتے ہیں، تو یہ ایک بہت بڑاقومی سانحہ ثابت ہوگا۔
