Swat

پختونخوا، سالانہ ہزاروں بچے ”نمونیا“ سے جاں بحق ہوتے ہیں

سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام)  خیبر پختون خواہ میں والدین کی لاپروائی سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں بچے”نمونیا“ کے مرض سے جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ ماہر اطفال ڈاکٹروں کے مطابق موسم سرما میں خیبر پختون خواہ کے زیادہ تر علاقوں میں موسم زیادہ سرد رہتا ہے۔ موسم سرما کے آغاز پر زیادہ تر ایک سال سے پانچ سال کے بچوں کو نمونیا ہو جاتا ہے۔ ماہر امراض اطفال ڈاکٹر احسان الحق نے  باخبر سوات کو بتایا کہ موسم سرما میں جب اکثر بچوں کو ”نمونیا“ ہو جاتا ہے،تو والدین سینہ کی خرابی یا بخار سمجھ کر بچوں کو گھر میں موجود ادویات از خود تجویز کرکے دیتے ہیں جس کی وجہ سے بیماری میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اکثر بچے اس سے مر جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نمونیا مرض کے علامات میں بچوں میں سانس کی تکلیف، سینے کی خرابی، سینے میں آواز،تیز بخار، خوراک کھانے میں کمی اور سانس کی رفتار میں اضافہ شامل ہیں۔ یہ علامات ظاہر ہونے پر والدین کو چاہیے کہ بچے کو فوری طور پر ہسپتال یا بچوں کے ماہر ڈاکٹر کو دکھائیں تاکہ بچے کا بروقت علاج ہوسکے۔چائلڈ لائف فاؤنڈیشن پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر احسان ربانی کے مطابق پاکستان میں گذشتہ سال72ہزار بچے نمونیا سے جاں بحق ہو ئے۔ پاکستان پیڈ یاٹرک ایسوسی ایشن کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال92ہزار کے قریب بچے نمونیا کی وجہ سے جاں بحق ہوجاتے ہیں۔ بچوں کے ماہر ڈاکٹر عبداللہ کے مطابق والدین کو چاہیے کہ بچے کی پیدائش کے چھ ہفتے بعد،پھر دس ہفتے بعد،پھر چودہ ہفتے بعد اور پھر پندرہ ماہ بعد بچوں کو تمام حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں۔ یہ ٹیکے تمام ہسپتالوں یا بنیادی صحت مراکز میں مفت لگائے جاتے ہیں۔ ان حفاظتی ٹیکوں سے بچے نمونیا سے بچ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ”نمونیا“ کے خاتمے کے لئے اب بازار میں ویکسین بھی دستیاب ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو نمونیا کی ویکسین ضرور لگوائیں تاکہ ان کے بچے نمونیا کے مرض سے بچ سکے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں