روح الامین نایابکالم

کیبل کار منصوبہ

قارئین کرام! اخباری اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے سلسلے میں ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر صوبے کے سیاحتی مقام کمراٹ میں بین الاقوامی معیار کا کیبل کار منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 14 کلومیٹر لمبا یہ کیبل کار منصوبہ کمراٹ اپر دیر تا مداکلشت لوئر چترال تک تعمیر کیا جائے گا۔ یہ مجوزہ منصوبہ دنیا کا سب سے لمبا اور اونچا کیبل کار منصوبہ ہوگا، جس کی تکمیل سے علاقے میں سالانہ 8 ملین ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی آمد متوقع ہے۔ یہ بڑا منصوبہ 32 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا، جس کے دونوں اطراف کے اسٹیشنوں پر کار پارکنگ کی سہولت جب کہ انٹرمیڈیٹ اسٹیشن پر ریسٹورنٹ کے علاوہ دیگر سہولیات بھی ہوں گی۔
بحیثیتِ ایک محب وطن پاکستانی مَیں ملک کی ترقی کے ہر منصوبے پر بے انتہا خوشی محسوس کرتا ہوں، لیکن کیا کروں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔“ حقائق روز روشن کی طرح عیاں ہیں، کہ بی آر ٹی کا جو حشر نشر ہوا، پراجیکٹ وقت اور بجٹ کے لحاظ سے پانچ گنا بڑھ گیا اور جو بدانتظامیاں اس پراجیکٹ پر سامنے آچکی ہیں، خدا کی پناہ الامان و الحفیظ۔
ان بدانتظامیوں، کرپشن اور شاہ خرچیوں کو فی الحال قالین تلے دبایا گیا ہے، لیکن یہ یاد رکھیے لپ جب بھی وقت آئے گا، آپ کے کارہائے نمایاں طشت از بام ہوں گے اور پھر اُس وقت انگار جانے تے لوہار کے مصداق جواب دہ ہونا پڑے گا۔
قارئین کرام! پچھلے دنوں مجھے کافی عرصہ کے بعد کالام جانے کا اتفاق ہوا، جو تکلیف سفر اور کالام میں ہمیں اُٹھانی پڑی، اُسے حوالہئ قلم کرنے کے لیے موزوں الفاظ نہیں۔ بس یہ کہ ہم تو توبہ تائب ہوگئے کہ آئندہ کے لیے ہم کالام کا نام بھی نہیں لیں گے۔ راستے میں مجوزہ پل تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے بڑی مشکلوں سے ایک گاڑی گزرنے کے لیے خطرناک تنگ راستہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی کلومیٹروں کے حساب سے لمبی قطاریں کھڑی رہتی ہیں۔ دو دو گھنٹے انتظار کی کوفت میں گزرتے ہیں۔ گرمی اور دھول عوام الناس کا الگ سے برا حال کرتے ہیں۔ اس صورت حال کے بارے میں ہمارا ایک دوست دریا کو کوزے میں بند کرکے یہ ارشادفرما تے ہیں کہ ”پاکستان کے جس ادارے میں اور سیاحت کے لیے جس طرف بھی جاؤ، تو واپسی پر توبہ تائب ہی ہوگے کہ یا اللہ مجھے دوبارہ اس گناہِ عظیم سے دور رکھ کہ پھر ادھر کا رُخ نہ کروں۔
ہوا میں کیبل کار بنانے والے، زمین پر کالام کی حالتِ زار نہیں دیکھتے۔ وہاں گندگی نظر نہیں آتی۔ ہر جانب انسانی فضلے کی بو پھیلی ہوئی ہے۔ بیٹھنے کے لیے کوئی ڈھنگ کی جگہ نہیں۔ کوئی بنچ، کوئی پارک نہیں۔ پینے کے صاف پانی کا کوئی انتظام نہیں۔ خواتین اور مردوں کے لیے کوئی واش روم نہیں۔ نماز، وضو اور استراحت کے لیے کوئی مقام نہیں۔ کوئی انتظام کوئی طریقہ، کوئی بندوبست نظر نہیں آتا۔ غرض کالام کے قدرتی حسن کو چار چاند لگانے کے بجائے الٹا اسے گہنا دیا گیا ہے۔ مَیں کسی ایک حکومت یا پارٹی کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتا۔ البتہ اس سوچ اور مائنڈ سیٹ کی ضرور مذمت کرتا ہوں جو سوات کو، اس وقت کے سیاحتی مقامات کو، شاہراہوں کو قصداً اور ارداتاً نظر انداز کرتا ہے۔ یہاں پر سوات کی خوبصورت اور اس کی سیاحت کو بڑھانے کے بجائے الٹا گھٹایا جا رہا ہے۔ آپ مری اور گلیات میں تو ہر سال اربوں روپے لگاتے ہیں، لیکن سوات بے چارہ سوتیلے بھائی کی طرح تکتا رہتا ہے۔ یہ ایک خاص مافیا ہے جس میں ہمارے سوات کے سرکردہ سیاسی اور غیر سیاسی بڑے لوگ اور رہنما بھی شامل ہیں، جو ایک سازش کے تحت سوات کو بدنام کرتے ہیں، اسے پیچھے رکھتے ہیں۔ کوئی خاطر خواہ ترقی کا منصوبہ نہیں لایا جا رہا۔ تاکہ سیاح بجائے سوات کے مری اور گلیات کا رُخ کریں۔ کیوں کہ وہاں پر پختونخوا اور پنجاب کے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کا سرمایہ لگا ہوا ہے۔ اس لیے تو بنی بنائی سازشوں سے سوات کی جنت نظیر وادی کو انتشار، افراتفری، دہشت اور خوف کی آماجگاہ بنایا جا رہا ہے۔
قارئین، لازمی بات ہے کہ جہاں خوف و دہشت ہوگی، وہاں کون بے وقوف سیاحت کے لیے جائے گا؟ کیا آپ نے کبھی مری، گلیات، ایبٹ آباد اور ہزارہ میں ”طالبان“ کا نام سنا ہے؟ کیا آپ نے کبھی ان مذکورہ علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کا ایک واقعہ تک سنا ہے؟ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ شورشِ سوات کے دوران میں یہاں کے باسی تحفظِ جان و مال کے لیے مری، گلیات، ایبٹ آباد اور ہزارہ میں مہاجر بن گئے تھے۔ وہاں مجبوراً رہائش اور خور و نوش کے لیے پیسا خرچ کرکے اُن کے کاروبار، تجارت اور آمدنی کو بڑھاتے رہے۔ مقابلے میں ہم ذلیل و خوار کس مہ پرسی میں غریب، مفلس اور لاچار بن رہے تھے۔ جو جمع پونجی تھی وہ لٹاتے رہے اور سوات میں گھر بار، باغ باغیچے، کھیت کھلیان لٹتے رہے۔ یہ تھی ہمارے سواتیوں کی درد ناک صورت حال اور عبرتناک انجام۔
ذرا آپ خود سوچیے کہ آپ کے ساتھ ایسا کیوں ہوا اور کس نے کیا؟ ہمیں اس خطے کی جغرافیائی اہمیت اور پختون ہونے کی سزا دی جارہی ہے۔ گلیات، ہزارہ کابھی نمبر آئے گا، اُسے بھی ”نچوڑ“ لیا جائے گا۔
لہٰذا اے وقت کے حکمرانو! کمراٹ کی ہوائی باتیں چھوڑو۔ زمین پر چلنا پھرنا سیکھو۔ حکمرانوں کا یہ خیال کہ کیبل کار کے لیے کوئی زمین یا پراپرٹی خریدنی نہیں پڑے گی، یہ اُن کی خوش فہمی ہے۔ وہاں کے مقامی لوگوں نے احتجاج کیا ہے کہ کیبل کار کے ایک ایک پلر اور ایک ایک اسٹیشن کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے اس پراجیکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے پہلے انسانی بنیادی ضروریات سستے داموں مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے، بجائے دور کی سوچنے کے، قریب کی خوبصورتی کو پائیدار بنایا جائے۔ جس حیثیت اور نام سے ہمیں نشانہ بنایا جارہا ہے، اُسی حیثیت اور نام پر ہمیں اکٹھا ہونا چاہیے۔ ورنہ ہمارا نام و نشان مٹنے میں دیر نہیں لگے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں