(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات کے لوگ موٹروے یا ایکسپریس وے کے مخالف نہیں بلکہ سوات کے لوگ موٹروے اور دیگر ترقیاتی منصوبے چاہتے ہیں۔موٹر وے کے متاثرین کے مسائل اور مشکلات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور اس کا متبادل بہترین حل نکالا جائے۔ موٹر وے مسئلہ پر سوات قومی جرگہ اور موٹرو ے متاثرین کے شکوے،اعتراضات اور تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان شاء اللہ سینٹ میں بہت جلد سوات موٹروے کے حوالے سے ایک بھر پور اجلاس بلائیں گے جس میں متعلقہ تمام لوگوں کو مدعو کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار سابق امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے سوات قومی جرگہ، موٹر وے متاثرین اورپی کے ایچ اے کے مشترکہ بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سوات بہت سارے مذاہب کا مرکز رہا ہے۔ یہ تمام پختونوں کا تاریخی ورثہ ہے۔ سوات پہاڑوں، جنگلات اور خوبصورتی سے مالامال ہے۔ سوات کی زمین بہت تھوڑی ہے لیکن زرعی لحاظ سے بہت قیمتی اور انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ایسی زرعی زمینیں پوری دنیا میں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے سوات کاستارہ گردش میں ہے۔ سوات کو قدرتی آفات اور دہشت گردی سے بے انتہا نقصان پہنچا ہے۔
