Swat

سوات،نامعلوم افراد نے مسیحی برادری کی تین قبروں کو مسمار کردیا

(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات میں نامعلوم افراد نے مسیحی برادری کے واحد قبرستان میں قبروں کی بے حرمتی کرتے ہوئے تین قبروں کو مسمار کردیا۔ قبروں کی بے حرمتی کے خلاف مسیحی برادری نے مکان با غ میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ باخبر سوات ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے مسیحی برادری کے رہنماؤں شکیل صادق، رابرٹ جان، احتشام مسیح اور ولیم مسیح نے کہا کہ ہم پاکستانی اور سوات کے باشندے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قبرستان میں ہمارے پانچ مردوں کی قبریں ہیں۔ نامعلوم افراد نے ان میں سے تین قبروں کی بے حرمتی کرتے ہوئے ان کو ہموار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبروں کی بے حرمتی کرنے والے افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ نیز سوات میں مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کیا جائے۔سوات میں مسیحی برادری کے دو سو سے زائد خاندان آباد ہیں۔ ان کا قبرستان نہ ہونے کی وجہ سے یہ برادری اپنے مردے دفنانے کے لئے اٹک یا پشاور لیکر جاتے تھے۔ اگر کوئی غریب انتقال کرتا، تو پھر برادری کے لوگ ان کے کرایے کے لئے چندہ کرتے تھے۔ قبرستان کے لئے شدید احتجاج کے بعد اُس وقت کے صوبائی وزیر اقلیتی امور وزیر زادہ نے اخون با با سیدو شریف میں مسیحی برادری کے لئے چار کنال پانچ مرلے کی زمین خریدی تھی جس کی چار دیواری بھی ابھی تک مکمل نہیں ہوئی۔مسیحی برادری کے قبرستان کے لئے زمین ضلعی انتظامیہ نے سیکشن فور کے ذریعے جون 2022ء میں حاصل کی تھی، مگر ابھی تک زمین کے مالک کو رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی۔ سیدو شریف پولیس کا کہنا ہے کہ ان کو شک ہے کہ یہ حرکت زمین کے مالک نے حکومت سے رقم کے حصول کے لئے کی ہو، تاہم اس بارے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات شفیع اللہ گنڈا پور نے اس واقعے کے بارے میں باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ سیدو شریف میں نامعلوم افراد کے خلاف دفعہ PPC-297 کے تحت ایف آئی آردرج کی گئی۔ اس کی تفتیش کے لئے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو جلد ملزمان تک پہنچ کر گرفتار کرے گی۔ انہوں نے کہا مسیحی برادری پاکستانی اور سوات کے باشندے ہیں اور کسی کو یہ اجازت نہیں دی جائیگی کہ وہ مسیحی برادری کی قبروں کی بے حرمتی کریں یا ان کو کسی قسم کا نقصان پہنچائیں۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں