(باخبر سوات ڈاٹ کام)سنٹرل ہسپتال کا لیبرروم اورگائنی وارڈ میں مسیحاؤں کے روپ میں تعینات عملہ مریضوں کے لئے درد سربن گیا۔ حکومتی دعوؤں سے اس وقت پر دہ اٹھ جاتاہے، جب کسی مریض یا ان کے ساتھ ہسپتال جانے والوں کاان سے سامنا ہوجاتاہے۔ ایک طرف حکومت کی طرف سے دعوے کیے جارہی ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں لوگوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مریضوں کاخاص خیال رکھاجاتاہے۔ عملہ کو مریضوں کیساتھ بہتررویہ اختیارکرنے کاپابند بنایاگیاہے، لیکن مریضوں اور اُن کے ساتھ آنے والوں کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ حقیقت کچھ یوں ہے کہ لیبر روم اورگائنی وارڈ اردلی سے لیکر تمام عملہ کامریضوں کے ساتھ غیرمناسب رویے سے مریضوں کااستقبال کیاجاتاہے اورکوئی بھی مریضوں کی دادرسی کے لئے موجود نہیں ہوتا۔ گھنٹے گزرجاتے ہیں لیکن مریضوں کے قریب کوئی مسیحا آکر ان کی دادرسی نہیں کی جاتی۔ بار بار رابطہ کرنے کے بعد مریضوں اوران کے لواحقین کو بھی شدید شرمندگی کاسامناکرناپڑتاہے۔ جب کوئی اس صورتحال سے متعلقہ حکام کو آگاہ کرتا ہے، تو پھراس کابھی الٹااثرپڑتاہے۔
