فضل محمود روخانکالم

زیب النسا جیلانی اور والئی سوات کا سالانہ تعلیمی ایوارڈ

میری بھی دلی خواہش تھی کہ میں والئی سوات کی یاد میں سالانہ ایوارڈ کا اجرا کروں۔ اُن کی یاد میں ملک گیر سطح پر پُروقار تقریب کا اہتمام ہو۔ علاقے کے معززین کے مل بیٹھنے اور ایک دوسرے سے ملاقات کا ایک بہانا ہو۔ اس کے لیے دل تو بہت مچلتا تھا، لیکن اس کے لیے جو مالی اخراجات درکار تھے، وہ میرے دسترس سے باہر تھے۔ جس طرح میری یہ سوچ تھی، ہو بہ ہو یہی سوچ والئی سوات کی پوتی شہزادی زیب النسا جیلانی صاحبہ کی بھی تھی۔ لیکن وہ سوات سے بہت دور عرصۂ دراز سے اپنے بچوں کے ہم راہ امریکہ میں مقیم چلی آرہی ہے، لیکن وہ جب بھی چاہیں سوات آنے میں کوئی چیز حائل نہیں ہوسکتی۔ وہ سال میں ایک دوبار اپنی جنم بھومی کا یاترا کرتی رہتی ہے۔
اگر چہ وہ ایک شہزادی ہے، لیکن بنیادی طور پر ایک سماجی ورکر ہے۔ امریکہ میں بھی انسانی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے اور یہاں سوات میں بھی وہ آرام سے نہیں بیٹھتی۔ ’’سوات ریلیف انیشیٹیو‘‘ (ایس آر آئی) کے فلیٹ فارم سے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے سر گرم رہتی ہے ۔ مَیں نے بھی کچھ عرصہ اس کے ساتھ سماجی ورکر کی حیثیت سے کام کیا ہے اور خدمت کے صلے میں ہم ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ اُس نے چند سال پہلے والئی سوات کی یاد میں ایک ایوارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا اور لوگوں سے آرا لینی چاہیں۔ مَیں نے بھی اس کے دست راست حاجی محمد علی خان خپل کور فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر کو اپنی تجاویز بھیجیں۔
کافی سوچ بچار کے بعد والئی سوات کی یاد میں ’’ایس آر آئی‘‘ کے فلیٹ فارم سے ایوارڈ کا باقاعدہ اجرا کیا گیا۔ ہم لوگوں میں بہ حیثیت قوم ایک کمی ہے کہ ہم ایک اچھے کام کرنے کا آغاز تو کر دیتے ہیں، لیکن چند سال بعد اس سے ہمارا دل بھر جا تا ہے، اور ہم وہ کام درمیان میں چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کا عملی تجربہ مجھے خود بھی ہوا ہے کہ مَیں نے 18 سال مسلسل چاچا کریم بخش پشتو ادبی ایوارڈ کو نہایت خلوص اور ایمان داری سے چلایا اور دنیا بھر اس کی شہرت اور مقبولیت کے چرچے ہونے لگے۔ مَیں نے اور ایوارڈ کے نگران اور چیئرمین کامران خان نے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ ہم نہیں ہوں گے، لیکن ہمارے بچے اسے جاری رکھیں گے۔ اگر وہ بھی نہیں ہوں گے، تو ہمارے پوتے اور پڑپوتے اسے جاری رکھیں گے، لیکن 2012ء میں کامران خان اللہ تعالا کو پیارے ہوگئے اور ان کی رحلت کے بعد وہ سلسلہ ٹوٹ گیا ۔
ہر چند کہ میرے مخلص ساتھیوں نے اس کو اپنی طرف جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا کہ ہم آپس میں خود پیسے اکٹھے کریں گے، لیکن اس ادبی ایوارڈ کو بند نہیں ہونے دیں گے، لیکن مَیں اپنے ساتھیوں کی اس بات سے اتفاق اس وجہ سے نہیں کرسکا کہ کامران خان اور چاچا کریم بخش (مرحوم) سوات کے نامی گرامی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ مَیں نے ساتھیوں سے جواباً کہا کہ کاش! کامران خان اور چاچا کریم بخش کا تعلق ہم جیسے عام لوگوں سے ہوتا، تو ہم یہ ادبی ایوارڈ تا دمِ آخر قائم و دائم رکھتے،لیکن یہاں تو مالی لحاظ سے زمین آسمان کا فرق ہے۔ اگر ہم اسے جاری رکھتے، تو عام لوگوں کا یہ تاثر ہوتا کہ اسے مالی سپورٹ اس خاندان کا حاصل ہے، جو کہ حقیقتاً ایسا نہ ہوتا ۔
اب مَیں یہاں نارویجن نوبل پرائز کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک نوبل نامی سائنس دان نے ڈائنامائٹ ایجاد کیا جس سے صنعتی انقلاب میں ایک اور چیز کا اضافہ ہوا۔ ایک دن ڈائنامائٹ پر لیبارٹری میں کام ہو رہا تھا کہ ایک زور دار دھماکا ہوا جس میں لیبارٹری مکمل طور پر تباہ اور کئی انسانی جانیں تلف ہوئیں، جس میں نوبل کابھائی بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس حادثے کے بعد کفارہ ادا کرنے کے لیے نوبل پرائز دینے کا آغاز کیا گیا، جس کو 285 سال ہونے جا رہے ہیں ۔ اس ایوارڈ کو جیتنے والے دنیا بھر میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔ دنیابھر میں انعام وصول کرنے والے کو پروٹوکول سے نوازا جاتا ہے ، اور ایک ہم ہیں کہ ایک اچھے کام کو شروع کرتے ہیں، تو بعد میں اُسے وقت اور دولت کا ضیاع سمجھ کر اپنی گلو خلاصی کا اہتمام کرتے ہیں، اور کمایا ہوا نام اور عزت شیطان کی روح کے حوالے کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے، لیکن ترقی یافتہ ممالک اپنا اچھا کام درمیان میں ادھورا نہیں چھوڑتے اور اس پر اپنی جان بھی نچھاور کرتے ہیں۔
اب مَیں ایک اور مثال ادبی ایوارڈ ’’حافظ الپورئ شانگلہ‘‘ کی دینا ضروری سمجھتا ہوں ۔ 5 سال سے یہ ایوارڈ التوا کا شکار ہے۔ جب مَیں نے اس ایوارڈ کے بانی ڈاکٹر عبادخان موجودہ ایم پی اے صوبہ پختونخوا سے وجہ دریافت کی، تو انھوں نے اس التوا کا ذمے دار کمیٹی اراکین کو قرار دیا اور خود کو صاف بچا لیا۔ جب کہ اس کی ساری ذمے داری ڈاکٹر عباد خان پر عائد ہوتی ہے۔ وہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگوں کو ادبی ایوارڈ کمیٹی سے فارغ کیوں نہیں کرتے ہیں اور ان لوگوں کی جگہ مخلص اور کام کے آدمی کیوں نہیں لاتے۔ ڈاکٹر عباد خان کی باتوں سے تو مَیں نے یہ اندازہ لگایا کہ التوا میں پڑے ادبی ایوارڈ بھی دینے سے رہ جائیں گے۔
مَیں یہاں شہزادی زیب النسا جیلانی صاحبہ کو عرض کروں گا کہ اس ایوارڈ کو اپنی زندگی تک محدود رکھنے کی غلطی ہماری طرح نہ دہرائے، بل کہ اس کو مستقل سلسلے کی شکل دی جائے۔اسے نوبل پرائز کی طرح دنیا بھر میں ایک مقام دلایا جائے۔ ہم عملی طور پر شہزادی کے ساتھ ہیں۔ وہ آزما کر دیکھے، تو سہی۔
والئی سوات نے اپنی ریاستی حکومت کو فلاحی حیثیت دی تھی ۔ریاستِ سوات، سوات کے شہر یوں کے لے مختص تھی ۔سب کے لیے تعلیم مفت، صحت مفت،علاج اور دوا ہسپتال میں مفت، مریض اور تیمار دار کے لیے ہسپتال میں خوراک مفت، انصاف کا حصول فوری اور مفت، سب کے لیے روزگار کے مواقع یکساں حاصل تھے ۔
یہاں میں ایک مثال دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک موقع پر والئی سوات محکمہ تعلیم میں خود استادوں کی بھرتی کرنے میں مصروف تھے۔ محکمہ تعلیم کا سربراہ بھی حاضر تھا۔ اس دوران میں باہر سے ایک لڑکے کو گارڈ نے روک رکھا ہے اور وہ والئی سوات تک رسائی چاہتا ہے۔ شور کی آواز والئی سوات کی کانوں میں پڑتی ہے۔ انھوں نے اپنے ماتحت سے پوچھا کہ یہ شور کیسا ہے؟اس نے کہا کہ وہ فُلاں کا بیٹا جو آپ کا مخالف ہے، وہ آپ کے پاس آنا چاہتا ہے اور گارڈ نے منع کیا ہے۔ والئی سوات نے پوچھا، کیوں؟ اس کا پیٹ نہیں ہے، کیا وہ کھانا نہیں کھائے گا۔ اسے آنے دو۔ اس کو بھی ملازمت مل گئی۔ یہ تھی ایک فلاحی ریاستِ سوات۔
والئی سوات ہر سال محکمہ تعلیم میں اچھی کارکردگی پر طالب علم اور اساتذہ کو انعامات دیاکرتے تھے۔ اُن کو ایک ماہ کی اضافی تنخواہیں دیتے تھے ۔عزت سے نواز تے تھے۔
شہزادی زیب النسا جیلانی صاحبہ نے اپنے دادا کی روایت اس سالانہ ایوارڈ میں تازہ کردی۔ وہ ہر سال 5 جون کو والئی سوات کے یومِ پیدایش پر سالانہ ایوارڈ دینے کا انعقاد کرتی ہے ۔لاکھوں روپے کیش ایوارڈ اعلا کارکردگی پر محکمہ تعلیم کو دیتی ہے۔ سیدو جیل میں قیدیوں کو تعلیمی سہولیات بہم پہنچاتی ہے۔ بے سہارا خواتین کو باعزت روزگار گھر پر مہیا کرتی ہے۔ کاروبار کے لیے خواتین کو قرضِ حسنہ دیتی ہے اور دور دراز علاقوں میں جہاں سکول نہ ہو، وہاں بچوں کو سکول کی سہولیات مہیا کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں