(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات سے منتخب ممبران کی بے بسی دیکھ کر ترس آتا ہے۔ بھاری مینڈیٹ کے باوجود ان کی حکومت سوات میں ترقیاتی منصوبے ختم کررہی ہے۔ وہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو ختم کرنے کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس حوالے سے تمام منصوبوں کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں جس کے بعد عدالت میں درخواست دائر کی جائے گی۔ گذشتہ روز اپنی رہائش گاہ مٹہ سوات میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ و چئیرمین پی ٹی آئی پی محمود خان نے کہا کہ اپنے دور حکومت میں سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن میں اربوں روپے کے منصوبے منظور کئے تھے، جن میں تعلیم، صحت، مواصلات، واٹر سپلائی، سیاحت اور دیگر شعبوں کے لئے فنڈز بھی جاری کئے، لیکن موجودہ صوبائی حکومت نے وہ تمام منصوبے اے ڈی پی سے ختم کردئے ہیں۔ خیبر میڈیکل یونیورسٹی سوات کیمپس کی منظوری کابینہ سے بھی ہوچکی تھی۔ ٹینڈر بھی جاری کیا گیاتھا اور ٹھیکدار نے کام بھی شروع کردیا تھا، لیکن اس منصوبے کو بھی بند کر دیا گیا جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ختم ہونے والے منصوبوں کی لاگت اٹھارہ ارب سے بھی زائد ہے۔ موجودہ منتخب ارکان اسمبلی جنہیں سوات کے عوام نے بھاری مینڈیٹ دیا ہے وہ بھی منصوبوں کے ختم ہونے پر خاموش بیٹھے ہیں۔
