(باخبر سوات ڈاٹ کام) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور تحریکِ تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ، رکنِ قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے کبل، سوات میں ’’سوات اولسی جرگہ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، آئینی بحران، پشتون قوم کی حالتِ زار اور ریاستی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان کی بقا، ترقی اور خوشحالی صرف اور صرف آئین کی بالادستی میں مضمر ہے۔ اس اصول پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔ اچکزئی نے کہا کہ دنیا کی ہر قوم کی طرح پشتون قوم کو بھی اپنے وسائل پر مکمل حق حاصل ہے۔ ہم پاکستان کو توڑنا نہیں چاہتے، لیکن غلامی کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ برابری، مساوی مواقع اور ترقی ہمارا آئینی اور انسانی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرزمین ہمیں خیرات میں نہیں ملی، بلکہ پشتون قوم اس دھرتی پر گذشتہ پانچ ہزار سال سے آباد ہے۔ آج پشتون قوم کو شدت پسند، انتہا پسند اور دہشتگرد کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ وہ خود سب سے زیادہ متاثر فریق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مردان، چارسدہ، صوابی سے لے کر سوات تک کا خطہ بدھ مت تہذیب کا گہوارہ اور مقدس مقام رہا ہے۔ آج بھی سوات مذہبی اور روایتی سیاحت کے لیے عالمی سطح پر شہرت رکھتا ہے۔ تاہم، امن و امان کی صورتحال، جو کہ ریاستی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، نے اس سیاحت کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اس خطے کو آمدن اور ترقی کے ایک اہم ذریعے سے محروم کر دیا ہے۔ اچکزئی نے اعلان کیا کہ عید الاضحیٰ کے بعد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پرچم تلے ایک ملک گیر عوامی تحریک کا آغاز کیا جائے گا، جس کا مقصد آئین، جمہوریت اور عوامی خودمختاری کی بحالی ہوگا۔ جرگے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما، سماجی تنظیموں کے نمائندگان، دانشور، وکلا، اساتذہ اور علاقائی مشران نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جرگے کے اختتام پر ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں آئین کی بالادستی، ریاستی جبر کے خاتمے اور پشتون عوام کے جائز سیاسی، معاشی و ثقافتی حقوق کے حصول کے لیے اجتماعی جدوجہد کا اعلان کیا گیا۔
