ریاست کے سول/ جوڈیشل تنظیم کے بارے میں بحث کے آخری نقطے یعنی مرکزی سٹ اپ پر تفصیلی گفت گو سے پہلے یہ عرض ضرور کروں گا کہ لفظ مشیر کو مشاورت کے معنی میں نہ لیا جائے۔یہ رینک پہلے حاکمِ اعلا کے نام سے متعارف کیا گیا۔بعد میں نائب وزیر کہلایا گیا، لیکن مختصر مدت کے اندر اندر مشیر کا رینک متعارف کیا گیا۔ یہ ایک Judicial/ Civil Administrative پوسٹ تھی، جس کی تفصیل ذیل میں ملاحظہ ہو:
٭ مشیرِ کوز سوات۔
٭ مشیرِ برسوات۔
٭ مشیرِ بونیر، جو ڈگر میں مستقل طور پر قیام پذیر تھا۔
٭ مشیرِ دفترِ حضور (یعنی سیف الملوک مشیر صاحب)
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔ہر مشیر اپنے “Jurisdection” کے لیے اپیلنٹ کورٹ تھا۔وہ از خود بھی فیصلے لے سکتا تھا۔
یہاں پر ہر مشیر کے لیے الگ معاون قاضی نہیں تھا، بل کہ ’’قاضی القضاء‘‘ کی سربراہی میں متعدد قاضیوں پر مشتمل شرعی عدالت تھی، جو ریفر کیے گئے مقدمات کا شرع کے مطابق فیصلہ کرتے۔
ایک ضروری بات جو رہ گئی، وہ فیصلہ جات رجسٹر ہے۔ ہر عامل اپنے دیے ہوئے فیصلہ کا اندراج مع دستخط ایک رجسٹر میں بہ طور دستاویزی ریکارڈ کرتا، جو آج بھی ضلعی دفاتر میں حوالہ جات و تحقیق کے لیے پڑے ہیں۔ مثلاً:
٭ کتابِ فیصلہ جاتِ حضور۔
٭ کتابِ فیصلہ جاتِ وزیرِ مال۔
٭ کتابِ فیصلہ جاتِ وزیرِ ملک۔
٭ کتابِ فیصلہ جاتِ کشور خان مشیر۔
٭ کتابِ فیصلہ جاتِ محمد مجید خان مشیر۔
٭ فیصلہ جاتِ محکمۂ قضاء وغیرہ ۔
مزید برآں سپہ سالار صاحب سید بادشاہ گل علاقہ کوہستان کے مقدمات بھی سنتے تھے۔ اُن کی ریٹائرمنٹ کے بعد سپہ سالار کا عہدہ ختم کردیا گیا۔
سیدو شریف میں تعینات مشیر اپنی حدود میں قصاص شدہ مجرموں کے آخری لمحات کی نگرانی بھی کرتے تھے۔اُن کی معاونت کے لیے ڈاکٹر بھی موجود ہوتے، جو قصاص شدہ شخص کی موت کی تصدیق کرتے ۔
ریاست کے وزیرِ مال بھی بعض مخصوص تحصیلوں کے مقدمات میں اپیلیں سنتے تھے۔
ان تمام مذکورہ عدالتی حکام کے فیصلوں کے خلاف اپیل حکم ران ریاست خود سنتے تھے۔ گویا اُن کی حیثیت ایک ایسے سپریم کورٹ کی تھی، جن کے فیصلوں کے خلاف اپیل یا نظرِ ثانی کا انحصار بھی اُن ہی پر تھا۔ اگر کوئی ریاستی باشندہ اپنا مقدمہ بہ راہِ راست حکم ران کے سامنے رکھنا چاہتا، تو بھی اُسے حق حاصل تھا۔ نیز مقدمہ بازی کا رجحان بھی لوگوں میں کم تھا۔
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
