(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات کے منتخب نمائندوں اور سوات ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی اور ڈیڈک چیئرمین اختر خان ایڈوکیٹ نے مینگورہ میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال کیٹگری ون کے مکمل فعال ہونے کا اعلان کیا اور سوات ایکشن کمیٹی نے اعلان کردہ احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں سیدو میڈیکل کالج کے کانفرنس ہال میں مذاکرات ہوئے جس میں صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی، چیئرمین ڈیڈک اختر خان ایڈوکیٹ، سیدو میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر اسرار الحق، سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر محمد جمیل، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور سوات ایکشن کمیٹی کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم، تمام سیاسی جماعتوں کے ضلعی رہنماؤں، ڈاکٹروں اور دیگر تنظیموں اور سول سوسائٹی کے ارکان اور علاقہ مشران نے شرکت کی۔ طویل مشاورتی مذاکرات کے بعد حکومتی عوامی نمائندوں کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ سنٹرل ہسپتال کو ڈی ایچ کیو کیٹگری ون کا مکمل درجہ دیا جائیگا اور تمام سہولیات دینے کے بعد سیدو تدریسی ہسپتال میں ایم ٹی آئی ایکٹ نافذ کیا جائیگا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی اور اختر خان نے کہا کہ ہم سوات کے عوام کے منتخب نمائندے ہیں۔ سوات کے مسائل کے حل کے لئے پہلے بھی کام کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔ سوات ایکشن کمیٹی سمیت سب لوگوں کے لئے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ اس موقع پر سوات ایکشن کمیٹی کی جانب سے عبدالرحیم نے کہا کہ ہم عوام سے ہیں۔ احتجاج کرنا اور اس گرمی میں سڑکوں پر بیٹھنا ہمارا شوق نہیں، بلکہ علاقہ اور عوام کی بہتری کے لئے مجبوری ہے۔ انہوں نے صوبائی وزیر اور ڈیڈک چیئرمین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے سوات کے عوام کا دیرینہ ڈی ایچ کیو کا مسئلہ حل کیا۔
