(باخبر سوات ڈاٹ کام) ملاکنڈ ڈویژن میں تجویز کردہ سیلز ٹیکس کے نفاذ کے خلاف ڈویژن کے نو اضلاع سوات، شانگلہ، بونیر، ملاکنڈ، دیر لوئر، دیر اپر،چترال لوئر، چترال اپر اور باجوڑ میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں پچیس ہزار سے زائد دکانیں بند رہیں۔ تمام اضلاع کی تحصیلوں سمیت تمام چھوٹے اور بڑے بازار بھی بند رہے۔الپورئی، ڈگر، سواڑی، پیر بابا، بٹ خیلہ، تیمرگرہ، دیر خاص میں بھی مکمل ہڑتال تھی۔ یاد رہے کہ موجوودہ وفاقی بجٹ میں حکومت نے ”فاٹا“ اور ”پاٹا“ میں دس فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی تھی۔ ملاکنڈ ڈویژن ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے باخبر سوات ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ملاکنڈ ڈویژن دہشت گردی اور سیلاب سے شدید متاثر ہے۔ یہاں کے لوگ اب تک اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہوسکے، نہ کاروبار اور سیاحت ہی پوری طرح ٹھیک ہوسکی۔ ایسے وقت میں جب حکومت کو چاہیے کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو بلا سود قرضے دے، تاکہ لوگ اپنے کاروبار ٹھیک کرسکیں، ان لوگوں پر ٹیکس لگانا ملاکنڈ ڈویژن کے لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا، تو ہم سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
