Swat

خوازہ خیلہ،دینی مدرسہ میں مدرس کے ہاتھوں بچہ قتل

(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے علاقہ چالیار کے ایک دینی مدرسے کے ظالم مدرس نے بارہ سالہ طالب علم کو شدید تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کردیا۔ مدرس اور اُس کے بیٹے کا مدرسے کے طالب علموں سے جنسی زیادتی کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ سیدو شریف کے علاقہ بت کڑہ میں بھی دینی مدرسے کے استاد نے بھی طالب علم کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق دینی مدرسے کے قاری محمد عمر نے اپنے بیٹوں احسان اللہ اور عبداللہ سے مل کر بارہ سالہ فرحان کو ایک کمرے میں بند کرکے کئی گھنٹوں تک اتنے تشدد کا نشانہ بنایا کہ بالآخر بچہ چل بسا۔ مدرسہ کے دیگر طالب علموں کے مطابق سارے بچے رو رو کر قاری کی منتیں کرتے رہے کہ فرحان کو چھوڑ دیا جائے، لیکن اس نے کسی کی نہ سنی۔ بچوں نے انکشاف کیا کہ قاری اور اس کا ایک بیٹا مدرسے کے بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بھی بناتا تھا۔ بچے کی لاش جب دوسرے بچوں نے ہسپتال پہنچائی، تو بچے کے سارے جسم پر تشدد کے کئی گہرے نشانات تھے۔ پولیس کے مطابق ملزم قاری محمد عمر اور اس کا بیٹا احسان اللہ قتل کرنے کے بعد فرار ہوگئے۔ پولیس نے ایک بیٹے عبد اللہ کو گرفتارکرکے تینوں کے خلاف مقدمہ درج کردیا۔ علاقہ کے عوام نے قاری کی گرفتاری کے لئے احتجاجی مظاہرہ کیا اور کالام روڈ کو ٹریفک کے لئے بند کردیا۔ اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ نے مدرسہ کو سیل کردیا۔ دوسری جانب سیدو شریف کے علاقہ بت کڑہ میں بھی ایک دینی مدرسہ کے دو قاریوں نے ایک طالب علم کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ طالب علم عثمان کے قاری عبدالسلام اور عبدالرحمن کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں