آج کل سوات کی تقسیم کی خبریں ایک بار پھر زور و شور سے زیرِ بحث ہیں۔ پاکستانی حکمران طبقہ ترقی کے نام پر سوات کی واحد تاریخی شناخت **’’سوات‘‘** کو دو الگ اضلاع میں تقسیم کرنے کی تیاری میں ہے۔ عوام کو برائے نام وسائل اور مراعات کے سبز باغ دکھا کر دراصل سوات کی تاریخ کو مزید مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان ابتداء ہی سے ریاستِ سوات کی بقا ختم کرنے پر بضد رہا۔ پہلے ریاست سوات کی شاہی حکومت کا خاتمہ کیا گیا اور وہ باشندے جو شہزادوں کی طرح جنت نظیر خطے میں سکون سے رہتے تھے، ان پر جہنم جیسا نظام مسلط کر دیا گیا۔ یوں ریاست سوات کو تباہی سے دوچار کیا گیا۔
لیکن یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ ریاست سوات کی تاریخ سے مزید کھیل کھیلا گیا اور آبادی وسائل کی فراہمی کا بہانہ بنا کر بونیر اور شانگلہ کو الگ اضلاع کا درجہ دیا گیا، جس سے سوات کی تاریخی حیثیت مزید مجروح ہوئی۔ یوں سوات کی شناخت محض نام تک محدود رہ گئی۔ عوام کے لیے یہ نام ہی ریاستِ سوات کا سب سے بڑا ورثہ بچا، ساتھ ہی والیِ سوات کے تعمیر کردہ شاہکار — کالج، اسکول، پل، کالونیاں اور تاریخی آبادکاریاں — ریاستی تاریخ کا واحد اثاثہ رہ گئے۔ لیکن حکمران طبقے کو شاید یہ بھی گوارا نہ ہوا۔ شاہی خاندان کو سوچی سمجھی سازش کے تحت منظر سے ہٹایا گیا۔ دہشت گردی کے دور میں نہ صرف والی سوات کے خاندان کی اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا بلکہ ان کے تعمیر کردہ بیشتر ادارے اور یادگاریں، جیسے اسکول، پل اور پولیس چوکیوں کو بھی مسمار کیا گیا۔ یہ سب دراصل ریاستِ سوات کی تاریخ کو مٹانے کی منظم کوشش تھی۔
آج سوات کے عوام کے لیے صرف ایک نام باقی ہے، ’’سوات‘‘، جو جنت نظیر ریاست کا آخری نشان ہے۔ مگر اب حکمران طبقہ اس نام کو بھی چھیننے پر تلا ہے اور اس مقصد کے لیے چند مقامی نمائندوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ وقت عوام کے لیے انتہائی فیصلہ کن ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ وقتی مراعات اور معمولی وسائل کے بدلے اپنی تاریخ کو خیر باد کہہ کر ’’اپر‘‘ اور ’’لوئر‘‘ سوات میں تقسیم ہو جائیں گے یا ایک آواز بن کر اپنے اس ورثے کو بچائیں گے جو اب صرف نام ’’سوات‘‘ کی صورت میں باقی ہے؟
اگر سوات تقسیم ہوا تو یہ محض ناموں کی تقسیم نہ ہوگی بلکہ تاریخ بھی ٹکڑوں میں بٹ جائے گی۔ اپر سوات کو سیاحت اور جنگلات ملیں گے جبکہ لوئر سوات کے حصے میں والی سوات کے تعمیر کردہ شاہکار اور تاریخی مقامات آئیں گے، جیسے جہانزیب کالج، ودودیہ ہال، سیدو بابا مزار، شاہی مقبرہ، والی سوات کی رہائش گاہ اور سیدو شریف کا تاریخی رقبہ۔ یوں وقت کے ساتھ سوات کی تاریخ ریکارڈ سے مٹتی چلی جائے گی۔
تقسیم کے بعد سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ عوام کی متحدہ آواز ٹوٹ جائے گی۔ آج اگر حکومت کوئی ناجائز منصوبہ، مثلاً چھاؤنی، کینٹ یا موٹر وے کی تعمیر کرے تو پورا سوات ایک آواز ہو کر احتجاج کرتا ہے۔ مگر تقسیم کے بعد اگر اپر سوات میں حکومت کوئی منصوبہ لاتی ہے تو لوئر سوات خاموش رہے گا اور اگر لوئر سوات متاثر ہوگا تو اپر سوات بے پروا ہوگا۔ یہی صورت دہشت گردی کے معاملے میں بھی سامنے آئے گی۔ آج پورا سوات امن کے لیے متحد ہوتا ہے لیکن تقسیم کے بعد یہ یکجہتی باقی نہ رہے گی اور دہشت گرد آسانی سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ لوئر سوات تاریخی طور پر ریاست کا مرکز رہا ہے، خاص طور پر سیدو اور مینگورہ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تعلیم، روزگار اور سرکاری سہولیات زیادہ ہیں۔ تقسیم کے بعد اپر سوات کی عوام سرکاری سطح پر تعلیم، روزگار اور دیگر سہولتوں سے محروم ہو جائیں گے، کیونکہ یہ علاقہ پسماندہ ہے اور الگ ضلع بننے کے باوجود اپنی ضروریات پوری نہیں کر سکے گا۔
سوال یہ ہے کہ آخر سوات کی تقسیم کیوں کی جا رہی ہے؟ اگر وجہ آبادی ہے تو پشاور اور مردان جیسے بڑے اضلاع پہلے کیوں تقسیم نہیں ہوئے؟ پشاور کی آبادی 47 لاکھ سے زیادہ ہے، مردان کی 27 لاکھ اور سوات تیسرے نمبر پر ہے جس کی آبادی 26 لاکھ ہے۔ کیا پشاور یا مردان والے اپر اور لوئر اضلاع میں تقسیم پر راضی ہوں گے؟ ہرگز نہیں۔ اگر یہ تقسیم واقعی فائدہ مند ہوتی تو ان اضلاع میں بھی اس کا مطالبہ کیا جاتا۔
اسی طرح اگر تقسیم کی وجہ رقبہ ہے تو سوات خیبرپختونخوا کے بڑے اضلاع میں سے صرف پانچویں نمبر پر آتا ہے۔ پنجاب کی آبادی کو سوات کے تناسب سے تقسیم کیا جائے تو وہاں 110 اضلاع ہونے چاہئیں، مگر اس وقت صرف 48 ہیں۔ تو پھر صرف سوات کی تقسیم کا جواز کیوں تراشا جا رہا ہے؟
شانگلہ اور بونیر کی مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ ان اضلاع کو الگ کیا گیا لیکن کیا وہ متحدہ سوات سے زیادہ ترقی کر سکے؟ آج بھی شانگلہ اور بونیر کے عوام صحت و تعلیم جیسی بنیادی ضروریات کے لیے سوات یا دیگر اضلاع کا رخ کرتے ہیں۔ تو پھر کیا سوات کی تقسیم کے نتیجے میں حقیقی ترقی ہوگی یا صرف تاریخی حیثیت مٹانے کی ایک اور سازش ہوگی؟
اس صورت حال میں سوات کے عوام کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ منتخب نمائندے اس معاملے میں ناکام ہیں، سیاسی اپوزیشن کا کوئی کردار نہیں۔ لہٰذا اب عوام کے پاس واحد سہارا شاہی خاندان ہے جو آج بھی احترام و قبولیت رکھتا ہے۔ حالیہ دنوں میں والیِ سوات کے بنگلے کی حفاظت کے لیے عوامی یکجہتی اس کا ثبوت ہے۔ اس لیے شاہی خاندان کو آگے آ کر عوام کو متحد کرنا ہوگا تاکہ تاریخی ورثے کو تقسیم سے بچایا جا سکے۔
اسی طرح صحافی، وکلا اور تاجر برادری کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ ماضی میں دہشت گردی کے خلاف سوات کے صحافیوں، خصوصاً فیاض ظفر کی توانا آواز نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ آج بھی اسی جرأت کی ضرورت ہے۔ وکلا اپنے دائرہ کار میں اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں۔ تاجر برادری اپنی منظم آواز بلند کرے تاکہ عوام دوبارہ تقسیم نہ ہوں۔
آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اگر سوات تقسیم ہوا تو اپر سوات محض ’’نام کا ضلع‘‘ ہوگا اور تمام بوجھ بدستور لوئر سوات پر ہی پڑے گا۔ اس لیے آج کے فیصلے کل کی تاریخ کو متعین کریں گے۔ سوات کی عوام کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ اپنے ماضی اور ورثے کو بچائیں گے یا محض وقتی مراعات کے لالچ میں اپنی شناخت ہمیشہ کے لیے کھو دیں
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
