Swat

سوات میں دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، مٹہ امن جلسہ

(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات کے عوام نے فیصلہ کیا ہے کہ سوات میں دہشت گردوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ اگر صوبائی حکومت اور پولیس سوات اور دیر کے سرحدی علاقہ میں موجود چند دہشت گردوں کو نکالنے میں ناکام رہے، تو پھر سوات کے لوگ انتظامیہ اور پولیس کو سوات سے نکال کر از خود دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار سوات قومی جرگہ کے سربراہ مختیار خان یوسفزئی اور دیگر مقررین نے سوات قومی جرگہ کے زیر اہتمام ’’امن پاسون‘‘ جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی سے اپنے خطاب میں کیا۔ پاسون کے دوران مٹہ چوک اور تینوں اطراف کی سڑکوں پر عوام کا ہجوم تھا۔ جگہ کم ہونے کی وجہ سے لوگوں نے عمارتوں کی چھتوں پر بیٹھ کر مقررین کو سنا۔ امن پاسون میں خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ مقررین نے کہا کہ سوات اب وہ سوات نہیں ہے، جہاں دہشت گردوں کے لئے کوئی جگہ ہو، سوات میں سات ہزار سے زائد پولیس جوان ہیں، جو جدید اسلحہ سے لیس ہیں، لیکن ان کو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی اجازت نہیں۔ آج مٹہ میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف ریفرنڈم تھا، جس میں لاکھوں عوام نے شرکت کرکے دہشت گردی کے خلاف ووٹ دیا۔ مقررین نے کہا کہ باجوڑ، جنوبی اضلاع میں مصنوعی دہشت گردی ہے، جس کو ہم نہیں مانتے اور ہم پورے صوبے میں پائیدار امن چاہتے ہیں۔ آئین پاکستان کے مطابق ہر شہری کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے۔ امن پاسون نے صوبائی حکومت اور پولیس کو ایک ماہ کا وقت دیا کہ اس دوران وہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کریں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر گلی گلی احتجاجی جلسے ہوں گے، جو صرف دہشت گردوں کے خلاف نہیں بلکہ صوبائی حکومت اور پولیس کے خلاف بھی ہوں گے۔ امن پاسون میں تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں، تنظیموں کے کارکنوں اور عہدیداروں نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں