Swat

ملا بابا سکول بارے خورد برد کا انکشاف

(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات میں سرکاری تعمیراتی کاموں میں گھپلوں اور خورد برد کی کہانیاں تو عام ہیں، لیکن محکمہ ورکس اینڈ سروسز نے ایک ایسے سکول کے ٹھیکدار کو ایک کروڑ 37 لاکھ روپے کی ادائیگی کی ہے جس سکول میں ابھی تعمیراتی کام بھی شروع ہی نہیں ہوا۔ گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 4 ملا بابا مینگورہ کی قابل استعمال عمارت کو 2022ء میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر گرایا گیا۔ اس سکول کے بچوں کو قریبی سکول میں سیکنڈ شپ (دوپہر کے بعد) میں بھیجا گیا، جن میں سے آدھے سے زیادہ بچوں نے تعلیم چھوڑ دی اور محکمہ تعلیم نے اس سکول کے اساتذہ کی پوسٹیں ختم کرکے ان کا تبادلہ دوسرے سکولوں میں کردیا۔ سال 2022ء میں محکمہ ورکس اینڈ سروس نے اس سکول کا ٹینڈر نمبر 230/200131 سے کردیا جس کی لاگت 7 کروڑ 10 لاکھ روپے تھی۔ اس ٹینڈر کو ایک ٹھیکدار نے اپنے نام پر حاصل کرکے منافع لیکر دوسرے ٹھیکدار پر فروخت کیا۔ پھر اس ٹھیکدار نے منافع لیکر اس سکول کا ٹھیکہ تیسرے ٹھیکدار پر فروخت کردیا۔ محکمہ ورکس اینڈ سروسز سوات نے بغیر کام کئے ٹھیکدار کو ایک کروڑ 37 لاکھ روپے دے دئے۔ سرکاری ٹھیکداروں کے مطابق سوات میں جو ٹھیکدار سرکاری تعمیراتی کام مکمل کرتا ہے وہ پشاور جاکر محکمہ فنانس میں بارہ فیصد کمیشن دیکر اپنا فنڈ ریلیز کرتا ہے۔ فنڈ ریلیز ہونے کے بعد ساڑھے بارہ فیصد کمیشن محکمہ ورکس اینڈ سروسز میں دیکر اپنا چیک وصول کرتا ہے لیکن اس اسکیم میں گنگا الٹی بہتی دکھائی دے رہی ہے۔ بغیر کام کئے ٹھیکدار کو سرکاری خزانے سے ایک کروڑ 37 لاکھ روپے دئے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ ورکس اینڈ سروسز سوات کے ایکسین محمد افتخار نے رابطہ پر مشرق کو اس رقم کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ رقم قانون کے مطابق ٹھیکدار کو پیشگی ادائیگی کی مد میں کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں