(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی دو سرکاری محکموں سے متعدد قیمتی سرکاری گاڑیاں زبردستی لے گئے۔ ذرائع کے مطابق سوات سے تحریک انصاف کے ایک ایم این اے صوبائی محکمہ اپر سوات ٹورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ٹویٹا یارس ماڈل 2026 لیکر گئے ہیں، جو اب تک ان کے پاس ہے۔اس محکمے سے سوات کے ایک ایم پی اے ٹویٹا ریو رجسٹریشن نمبر Swat 4100 لے کر گئے ہیں، جو تاحال ان کے پاس ہے۔ پشاور کے ایک صوبائی وزیر ٹی ایم اے بابوزئی (مینگورہ) جو ان کے بھائی کے استعمال میں ہے۔ سوات کے ایک اور ایم پی اے کے پاس محکمہ ماہی پروری کی دو گاڑیاں ڈبل کبین ماڈل 2022 رجسٹریشن نمبر GAA639 اور ٹویٹا یارس، جس کی ابھی رجسٹریشن بھی نہیں ہوئی، ان کے پاس ہے۔ اس محکمہ کی ایک اور گاڑی ڈبل کبین رجسٹریشن نمبر AA3563 محکمہ لائیو اسٹاک کے ڈپٹی سیکرٹری لے کر گئے ہیں، جو پشاور میں ان کے رشتہ داروں کے زیر استعمال ہے۔ اس محکمہ کی ایک اور گاڑی سوزکی جیمی رجسٹریشن نمبر A1025 محکمہ لائیو اسٹاک کے ڈپٹی سیکرٹری کے پی ایس کے پاس ہے۔ اس محکمے کی ایک اور گاڑی سوزکی کلٹس رجسٹریشن نمبر AA3293 لائیو اسٹاک کے پلاننگ آفیسر کے ساتھ ہے، جو ان کے گھر والے استعمال کر رہے ہیں۔ اس طرح سوات کے ایک اور ایم پی اے، ٹی ایم اے مٹہ سے ایک سرکاری گاڑی لے کر گئے تھے، لیکن سال بعد انہوں نے گاڑی ٹی ایم اے افس کو واپس کی۔ تمام محکموں کے ذمے داروں نے اس خبر کی مکمل تصدق کی ہے۔ واضح رہے کہ کوئی ایم این اے یا ایم پی سرکاری گاڑی نہیں رکھ سکتا۔ چیف سیکرٹری نے سرکاری محکموں کو ایک سرکاری خط میں لکھا بھی تھا کہ جس محکمے میں جس آفیسر کے نام پر گاڑی خریدی گئی ہو، صرف وہ مجاز افسر ہی وہی گاڑی رکھ سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا کہ جن کے پاس غیر قانونی طور پر گاڑیاں موجود ہیں، وہ ان کو ’’مال مفت، دل بے رحم‘‘ کے مصداق استعمال کرتے ہیں۔ یوں یہ قیمتی سرکاری گاڑیاں خراب ہورہی ہیں۔
