(باخبر سوات ڈاٹ کام) ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے
خلاف ہفتہ کے روز وکلا، تاجروں، عمائدین، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ایک بڑے عوامی اجتماع میں وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن پر عائد کیے گئے ٹیکس فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ بصورت دیگر پورے ڈویژن میں بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ اجتماع سے ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم خان، جماعت اسلامی کے رہنما عنایت اللہ خان، پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی ڈاکٹر امجد علی اور سلیم الرحمٰن، رکن صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان، عوامی نیشنل پارٹی کے شیر شاہ خان، ڈاکٹر خالد محمود، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اعجاز خان، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قوائی خان، واجد علی خان، پاکستان پیپلز پارٹی کے اختر حسین سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کے عوام گذشتہ دو دہائیوں سے مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق 2005 کے تباہ کن زلزلے، دہشت گردی، فوجی آپریشنز، نقل مکانی اور بار بار آنے والے سیلابوں نے اس خطے کو شدید متاثر کیا، تاہم اس کے باوجود حکومتوں نے یہاں ترقیاتی منصوبوں پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات اور دہشت گردی سے متاثرہ اس خطے کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے ان پر ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے ، جس سے پہلے سے موجود معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔مقررین کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے طویل عرصے تک قربانیاں دی ہیں، لیکن انہیں ترقی، بحالی اور معاشی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے مزید مالی بوجھ تلے دبا دیا گیا ہے ۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس نہ لیا تو ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع میں مسلسل احتجاجی تحریک چلائی جائے گی، جس کے دوران جلسے، جلوس، شاہراہوں کی بندش، شٹر ڈاؤن ہڑتالیں اور پہیہ جام ہڑتالیں کی جائیں گی۔ مقررین نے دعویٰ کیا کہ یہ احتجاجی تحریک حالیہ کشمیر احتجاج سے بھی زیادہ بڑی اور مؤثر ثابت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہ کی تو ملاکنڈ ڈویژن کے دس اضلاع سے تعلق رکھنے والے تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اپنے استعفے بھی پیش کریں گے۔ اجتماع کے شرکا نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن پر عائد تمام ٹیکس فوری طور پر واپس لیے جائیں اور اس خطے کے عوام کی دیرینہ معاشی مشکلات کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
