’’نواز شریف کڈنی ہسپتال منگلور‘‘ گردوں کی بیماریوں کے حوالے سے اس پورے علاقے میں وہ واحد ہسپتال ہے جہاں نہ صرف سوات بلکہ دیر، بونیر اور شانگلہ کے مریض بھی شفایابی کی غرض سے آتے ہیں۔ اس وجہ سے اب ہسپتال پر بوجھ بھی زیادہ ہوگیا ہے۔ لہٰذا کبھی کبھی ہسپتال انتظامیہ کو مختلف حوالوں سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ ہسپتال کی موجودہ انتظامیہ پوری جاں فشانی سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن بعض اوقات مختلف سامان اور دوائیوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ہسپتال کے معمولات اور مریضوں کے علاج میں8 خلل پڑ جاتا ہے۔
2018ء کے آغاز میں ہسپتال انتظامیہ مختلف بحرانوں کی زد میں رہی۔ بھرتیوں اور کرپشن کے الزامات کے حوالے سے تحریک انصاف کی مقامی قیادت نے دھرنے بھی دیے۔ حالاں کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ صوبے اور مرکز میں اپنی حکومت ہونے کے باوجود دھرنے دینے اور احتجاجی سیاست کے کیا معنی لیے جاسکتے ہیں؟ اگر کوئی مسئلہ ہے، برائی ہے یا بے انصافی ہے، تو اپنی حکومت اور اختیارات کے ہوتے ہوئے احتجاج اور دھرنے دینے کی بجائے اُسے حل کریں۔ مطالبات اور دھرنے تو اُس وقت دیے جاتے ہیں جب آپ کے ہاتھ میں اختیار اور طاقت نہ ہو۔ بہرحال خدا خدا کرکے وہ ڈرامے ختم ہوچکے ہیں۔ ہسپتال میں نئے ایم ایس آئے اور اب ڈاکٹر غلام رحمانی کی سرکردگی میں حالات پُرسکون انداز میں چل رہے ہیں۔ وہ اپنے بل بوتے پر حتی المقدور دوڑ دھوپ کر رہے ہیں۔ پشاور اور اسلام آباد کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ اب صوبائی حکومت نے خاصی دوڑ دھوپ کے بعد ہسپتال کے لیے کچھ فنڈز جاری کر دیے ہیں، لیکن بنیادی مسئلہ اب بھی وہی اٹکا ہوا ہے کہ پنجاب سے پختونخوا کی حکومت کو یہ ہسپتال پورا ’’ہینڈاوور‘‘ کیا جائے، تاکہ ہسپتال کے حوالے سے تمام مسائل کے حل کے لیے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور صاف کھلے لفظوں میں انہیں ذمہ دار قرار دیا جائے۔
وقت کے ساتھ ساتھ ہسپتال پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ آئے روز مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ لہٰذا ہسپتال کی بنیادی ضروریات بھی بڑھ رہی ہیں، جس میں مختلف مشینوں سے لے کر فرنیچر تک اور دوسری جانب گیس، بجلی کی ضروریات بھی روز بہ روز بڑھ رہی ہیں۔ لہٰذا ایک مسلسل نگہداشت اور مختلف مرمتوں کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ انہی ضروریات میں ایک وہیل چیئر بھی ہے، جس کی ہسپتال میں شدید ضرورت ہے،جو موجود ہیں، وہ اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ مرمت کرنے کے بھی قابل نہیں رہے۔ ہر ہسپتال میں وہیل چیئر کا موجود ہونا ایک اہم ضرورت ہے۔ جب بھی کوئی مریض گاڑی میں یا چارپائی پر لایا جاتا ہے، تو سب سے پہلے اُسے اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ مریض کو سہولت سے اُس پر بٹھا کر ڈاکٹر کو دکھایا جائے اور لیبارٹری ٹیسٹ یا ایکسرے کرانے کے لیے اُسے آسانی سے موقع پر پہنچایا جائے۔
مَیں سوات، مینگورہ اور متعلقہ علاقے کے مخیر حضرات سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس بارے میں سخاوت، احسان اور نیکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہیل چیئر مہیا کرنے میں پہل کریں اور ثواب دارین حاصل کریں۔ ہر کام حکومت پر چھوڑا جاسکتا ہے اور نہ حکومت کی لمبی کارروائی کا انتظار ہی کیا جاسکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس کالم کو صاحبِ استطاعت افراد ایک ہمدردانہ اپیل سمجھ کر یہ دیرینہ ضرورت پوری کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔ یوں ضروت بھی پوری ہوگی اور دعائیں بھی ملیں گی۔
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
