Swat

سوات میں چائنہ کلے کے لیے فیکٹری کی تعمیر سود مند ثابت ہوگی، ڈاکٹر انوار الحق

سوات(باخبر سوات ڈاٹ کام)  سوات کی ’’چائنہ کلے‘‘ پاکستان میں صرف دو علاقوں سوات اور حیدرآباد میں پائی جاتی ہے جو دنیا کی بہترین کراکری اور کاسمیٹکس کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے اس کی فیکٹریاں سوات سے باہر منتقل ہوچکی ہیں۔ اگر یہاں فیکٹریاں دوبارہ بنائی جائیں، تو مقامی معیشت کی بہتری کے علاوہ اضافی لوگ برسر روزگار ہوں گے۔ اس مٹی پر تحقیق کی جائے، تو مزید دریافتوں کا خزینہ ثابت ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج کے بی ایس کوآرڈی نیٹر پروفیسر ڈاکٹر انوارالحق نے پختونخوا ریڈیو کے پروگرام ’’رنگونہ د سوات‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نایاب مٹی سے بہترین کراکری اور کاسمیٹکس کا سامان بنتا ہے۔ خوش قسمتی سے یہ قیمتی مٹی سوات میں پائی جاتی ہے۔ یہاں سے مٹی پنجاب میں بنی فیکٹریوں کو برآمد ہوتی ہے، جہاں اس سے مختلف اشیا بنائی جاتی ہیں۔ اگر سوات میں فیکٹری بنائی جائے، تو سوات سمیت پورے صوبے کے کام آئے گی اور لوگوں کو روزگار کے اضافی مواقع بھی فراہم ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں