سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام کی نہیں نظام مصطفی ؐ کی ضرورت ہے۔ 9 ماہ میں ثابت ہوا کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس ملک چلانے کا کوئی ایجنڈا نہیں۔ مہنگائی اور بے روز گاری کی وجہ سے لوگ خودکشیوں پر مجبور ہیں۔ وزیر خزانہ نے پاکستانی کرنسی کو کاغذ کے ٹکرے میں تبدیل کردیا، تو عبدالحفیظ شیخ کو مقرر کردیا گیا، جس کو موجودہ حکمران ورلڈ بینک کا ایجنٹ کہتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گراسی گراؤنڈ مینگورہ میں جماعت اسلامی ضلع سوات کے زیر اہتمام وکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر میاں محمد اسلم، صوبائی امیر سینیٹر مشتاق احمد خان، ضلعی امیر محمد امین، مفتی شیر محمد، حافظ اسرار احمد، مولانا جمال الدین اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے مزید کہا کہ 71 سال ہوگئے، لیکن اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آنے والے ملک میں اسلامی نظام نافذنہیں ہوسکا۔ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بد امنی کا سامنا ہے۔ سرحدات محفوظ نہیں۔ افغانستان سے پاکستانی سرحد پر حملہ ہوا جس میں 7افراد شہید ہوگئے، جس کی ہم پُرزور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اسلام اور امن کا گہوارہ ہیں۔ ان مدارس کے خلاف کسی قسم کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے بھی عوام کو یکسر مایوس کردیا ہے۔ اس لئے عوام کے پاس صرف جماعت اسلامی کو آزمانے کا موقع ہے، جس کو پہلے ہی عوام دیانت دار قیادت قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سواتی عوام نے بھی ملک کی بقا وسلامتی کے لئے بے تحاشا قربانیاں دی ہیں، لیکن انہیں آج تک قربانیوں کا کوئی صلہ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا ملک میں نئے تجربوں کی ضرورت نہیں بلکہ اسلامی نظام کے نفاذ کی ضرورت ہے، جس سے ہمارے جملہ مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
