’’وادئی سوات اور لوڈ شیڈنگ‘‘، ’’لوڈ شیڈنگ سوات کے صاف دامن پربدنما دھبا‘‘، ’’ناروا لوڈ شیڈنگ ور عوامی نمایندے غائب‘‘، ’’سوات میں غیر علانیہ لوڈ شیڈنگ، منتخب نمایندوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان!‘‘، ’’خوب صورت وادی میں اندھیرا‘‘ و علیٰ ہذا القیاس!
قارئین! آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ مسالے دار عنوانات کسی اخبار کی مختلف خبروں کی سرخیاں ہیں؟ لیکن نہیں، ایسا بالکل نہیں۔مَیں بات کر رہا ہوں قدرتی حسن اور وسائل سے مالامال وادی سوات کی، جہاں کے لوگ غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کا رونا رو رہے ہیں اور منتخب نمایندے ’’قیدی 804‘‘ کو رہا کرنے کے درپے ہیں۔ سوات میں عرصۂ دراز سے بجلی کا بحران ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کے کاروبار پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ کاروباری طبقے کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین بھی لوڈ شیڈنگ سے عاجز آچکے ہیں۔ کبھی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی دو چار گھنٹے کی، جسے ’’لوڈ شیڈنگ‘‘ کہا جاتا تھا، اب تو حالات یہ ہیں کہ بجلی کب آتی ہے؟ پتا ہی نہیں چلتا۔ اب اسے کیا کہیں گے؟یہ پڑھنے والے ہی بتا دیں۔
کچھ عرصہ پہلے لوڈ شیڈنگ پر میری لوگوں سے بات چیت ہوئی۔ ان میں بازار میں بیٹھے ایک درزی سے بات ہو رہی تھی کہ زیادہ تر آپ کی دکان کیوں بند رہتی ہے؟ معلوم ہوا کہ دن کے وقت تو بجلی کا دیدار کم کم ہی ہوتا ہے، تو صرف دکان کا کرایہ ادا کرنے کے لیے دکان کھولے رکھتا ہوں۔
قارئین، بہ خدا! دکان دار کی آنکھوں میں عجیب بے بسی دیکھ کر عوامی نمایندوں کو کوس رہا تھا۔ خیر، اسے دلاسہ دیا اور چلتا بنا……لیکن دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے بہت بڑا گناہ کیا ہے جو ’’قیدی 804‘‘ کی محبت میں ایسے ایسوں کو ووٹ دیا ہے، جن پر بات کرنا وقت کا ضیاع ہی ہے۔
گھریلو صارفین کا تو چلو کچھ نہ کچھ گزارا ہوہی جاتا ہے، لیکن کاروباری طبقہ کیا کرے؟
ایک عمر رسیدہ ہنرمند بابا بیٹھے دِکھے۔ سوچا ان کا حال احوال بھی پوچھتا چلوں۔ پوچھا کہ آپ کی دکان پر تو ہر وقت چہل پہل لگی رہتی تھی، لیکن اب یہ مندی دیکھ کر دل دہل سا گیا ہے۔ انھوں نے جواباً کہا کہ پہلے دس سے پندرہ ہزار روپے روزانہ کمالیتا تھا۔ اب ناروا لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہوگیا ہے۔
بابا جی کی نم ناک آنکھیں دیکھ کر سوچ لیا کہ میرے پاس قلم ہے جسے استعمال کر کے ان آنسوؤں کا مداوا کروں گا۔
قارئین! کچھ عرصہ پہلے پی کے 10 کے علاقہ راحت کوٹ میں بجلی لوڈشیڈنگ کے خلاف لوگ احتجاج کے لیے نکلے، تو وہاں کا ایم پی اے بھی لوگوں کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوا۔ اس منظرکو دیکھ کر مجھے منظور پشتین کا ایک جملہ یاد آگیا، جو انھوں نے لاہور میں ایک خطاب کے دوران کہا تھا کہ ہم تو آپ سے امن مانگ رہے ہیں، بھلا آپ کس سے امن مانگ رہے ہیں؟
یعنی عوام تو اس ایم پی اے کی کم زوری کی وجہ سے اپیل کررہے تھے کہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کریں، لیکن وہ کس کے خلاف نکلا تھا؟
اب سوال یہ ہے کہ جس منتخب نمایندے کوعوام نے اپنے مسائل حل کرنے کے لیے ووٹ دیاہو اوروہ مسئلہ حل کرنے کی بہ جائے خودبھی عوام کے ساتھ احتجاج میں نعریں لگاتا پھرے، تو پھر مسائل کا حل کون نکالے گا؟ اس حوالے سے ساقی امروہی صاحب کہتے ہیں:
کون پرسانِ حال ہے میرا
زندہ رہنا کمال ہے میرا
اگر منتخب نمایندے ’’قیدی 804‘‘ کو جلد از جلد رہا کرنے میں کام یاب ہوجائیں، تو شاید اہلِ خیبر پختونخوا کے مسائل ہوں، ورنہ اس یتیم و یسیر صوبے کا خدا ہی حافظ ……!
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
