سوات(باخبر سوات ڈاٹ کام) مینگورہ شہر میں کتوں کا گوشت قصائیوں کو فروخت کرنے والے ملزم کو جیل بھیجنے اور ریمانڈ نہ حاصل کرنے کی وجہ سے شہر میں کتوں کا گوشت فروخت کرنے والے قصائی قانون کے ہاتھ سے محفوظ ہوگئے۔ گذشتہ روز شہر میں کتوں کو ذبح کرکے ان کا گوشت فروخت کرنے والے ملزم عادل کو پولیس نے گرفتار کیا تھا جس نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ وہ ایک عرصہ سے کتوں کو شہر میں مختلف قصائیوں کو گوشت یا قیمہ کی صورت میں فروخت کرتا ہے جس کو قصائی آگے گاہگوں کو فروخت کرتے ہیں ۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد اگلے دن جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جنہوں نے ملزم کو جیل بھیج دیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق ملزم کے اس اعتراف کے بعد کہ وہ کتوں کا گوشت قصائیوں کو فروخت کرتا تھا، پولیس کو چاہیے تھا کہ وہ تفتیش کرکے ان قصائیوں کو بھی حراست میں لیتے جو کتوں کا گوشت فروخت کرتے تھے، لیکن ملزم کے جیل جانے کے بعد اب نہ تووہ قصائی قانون کی زد میں آسکتے ہیں جو اس کاروبار میں ملوث تھے اور نہ ملزم کے ساتھی جو اس کے ساتھ اس کام میں ملوث تھے۔ اس سلسلے میں پولیس کا مؤقف جانے کے لئے تھانہ سیدو شریف فون کیا گیا جہاں موجود محرر نے بتایا کہ یہ انوسٹی گیشن پولیس کا کام ہے اور اس مقدمہ کی تفتیش اے ایس ایچ او حضرت علی کر رہے تھے، جب محرر کے دیے ہوئے اے ایس ایچ او کے نمبر پر بار بار رابطے کی کوشش کی گئی، تو انہوں نے فون نہیں اٹھایا
previous post
