سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام ) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ریاض خان محسود (ستارۂ امتیاز) کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو کی ڈویژنل ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، جس میں صوبے کے بعض دور افتادہ علاقوں بالخصوص افغانستان سے ملحقہ ضلع باجوڑ میں پولیو کا کیس سامنے آنے کے تناظر میں انسدادِ پولیو کی حالیہ مہم کو زیادہ مؤثر بنانے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔بعض ضروری فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں ڈویژن کے آٹھوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں، دیگر انتظامی افسران، محکمۂ صحت و پولیس کے ضلعی سربراہان اور عالمی ادارۂ صحت کے نمائندگان نے شرکت کی۔ کمشنر ملاکنڈ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں پولیو خوراک نہ لینے والے بچوں کی بروقت نشان دہی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے ہمارے نونہالوں کی جسمانی معذوری کے علاوہ عالمی سطح پر ہماری بدنامی اور جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس تشویش ناک صورتحال کا ذمہ دار متعلقہ حکام و ملازمین کو قرار دیتے ہوئے انہیں آخری وارننگ دی اور آئندہ عدم تعاؤن پر ان کی تنخواہیں روکنے کا حکم دیا۔ انہوں نے ضلع باجوڑ میں خواتین عملے کی ناقص کارکردگی پر بطور خاص اظہار ناراضگی کرتے ہوئے انہیں پوری طرح فعال بنانے اور گاؤں اور قصبے کی سطح پر بچوں کی ماؤں کو بھی آگاہی دلانے اور مہم میں باضابطہ طور پر شامل کرنے کی ہدایت کی۔
