گذشتہ دنوں کمشنر مینگورہ کی جانب سے حکم صادر ہوا کہ روڈ میں جتنے بھی جمپ یعنی رکاوٹیں یا اسپیڈ بریکرزہیں، فورا ًہٹا دی جائیں۔ اس حکم کو پورا کرنے کے لیے میونسپل کمیٹی کے اہلکاروں کو مقرر کیا گیا۔ دوپہر کے وقت کمیٹی کے اہلکاروں نے رکاوٹیں توڑنے کا عمل شروع کر دیا جو آخری وقت تک جاری رہا۔ جب ان سے اس کام کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے سنجیدہ جواب کی بجائے فرمایا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک موبائل ایپلی کیشن متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے لوگ اپنی شکایات درج کرتے ہیں۔ پھر وہ شکایات ضلع سربراہ کو موصول ہوتی ہیں کہ اس پر عمل کیا جائے۔
اب یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ لوگوں نے ہزاروں شکایتیں مہنگائی کے خلاف بھی بھیجی ہوں گی۔ ہزاروں شکایتیں پولیس اور دوسرے محکموں کے خلاف ارسال کی ہوں گی، لیکن کیا حکومت نے انہیں سنجیدہ لیا ہے یا پھر ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر عوام کے مفاد میں جو کوئی کام ہے، تو اسے اپنی حالت میں کیوں نہیں چھوڑا جاتا؟ مینگورہ شہر سوات کا سب سے بڑا شہر اور بازار ہے، جس میں لوگ دوسرے اضلاع سے کاروبار کرنے آتے ہیں۔ اس شہر سے ملحقہ دوسرے چھوٹے علاقے بھی ہیں، جن میں طاہر آباد، عثمان آباد، مکانباغ، حاجی بابا وغیرہ شامل ہیں، ان علاقوں میں ہزاروں لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بچے اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ علاقے میں پانچ چھے سکول بھی ہیں۔ اگر یہ بچے اسپیڈ بریکرز کی غیرموجودگی میں سکول سے گھر آتے وقت حادثہ کی وجہ سے زخمی ہوجائیں یا پھر خدانخواستہ کچھ اور واقعہ رونما ہوجائے، تو ذمہ دار کون ہوگا؟ مذکورہ رکاوٹوں کے باوجود لوگ تیز رفتاری کرتے ہیں۔ پھر اگر یہ رکاوٹیں نہ ہوں گی، تو سلیقے سے گاڑی کون چلائے گا؟ لوگوں اور خاص کر بچوں کا خیال کون کرے گا؟ اب سوال یہ بنتا ہے کہ تیزرفتاری اور ایک خاص عمر کے لیے ہمارے ملک میں قانون تو ہے، لیکن اس پر عمل نہیں۔ کمشنر کی کرسی کا احترام اپنی جگہ، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کرسی کا صحیح استعمال نہیں ہو رہا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ کمشنر صاحب اپنا فیصلہ واپس لیں گے یا پھر اس کا متبادل حل ضرور نکالیں گے۔
previous post
