(باخبرسوات ڈاٹ کام)سری لنکا سے تعلق رکھنے والے بدھ مت کے راہبان نے سوات کا دورہ کیا اور بدھ مت ماننے والوں کی مرکزی عبادت گاہ سیدو شریف میں عبادت کی اور دعائیں مانگیں۔ راہبان نے زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے تھے۔ پہلی دفعہ مرکزی عبادت گاہ پہنچنے پر خوشی سے ان کی آنکھیں پُر نم ہوئیں۔ راہبان نے سٹوپہ کے گرد چکر لگائے اور پھر عبادت کی۔ سری لنکا سے آنے والے16رکنی وفد میں 11 راہبان اور 5 سرکاری عملہ تھا۔ راہبان نے شنگردار سٹوپا، بت کڑہ1 اور جہان آباد بدھا کا بھی دورہ کیا اور وہاں بھی عبادت کی۔ اس کے علاوہ راہبان نے سوات عجائب گھر کا دورہ کیا اور وہاں پتھر پر موجود بدھا کے پاؤں کا نشان دیکھا۔ سری لنکن راہبان سوات میں عبادت کرنے کے بعد واپس روانہ ہوئے۔ سری لنکن راہب ڈاکٹر واپلاو پیما ناندے نیباخبر سوات ڈاٹ کام کے اس سوال پر کہ آپ پہلی دفعہ اپنی مرکزی عبادت گاہ کیوں آئے؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم پہلے سے بہت کوشش کر رہے تھے لیکن ہمیں ایسا نقشہ پیش کیا گیا تھا کہ پاکستان میں لوگ بدھ مت والوں کے گلے کاٹتے ہیں اور وہاں حالات بہت خراب ہیں۔ اس لئے گھر والے ہمیں اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا میں پاکستانی سفارت خانے کے اہلکاروں نے ہمیں بتایا کہ پاکستان میں حالات ٹھیک ہیں جس کے بعد ہم آگئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تخت بھائی اور سوات کے لوگوں نے ان کو جس طریقے سے خوش آمدید کہا اور سوات کے لوگوں نے ان کی جس طرح مہمان نوازی کی، اس کو ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ اب بڑی تعداد میں سری لنکا سے لوگ عبادت کے لئے آئیں گے۔جس طرح مسلمانوں کی مرکزی عبادت گاہ بیت اللہ شریف مکہ میں ہے اور دیگر عبادت گاہیں یا مقدس مقامات مکہ اور مدینہ میں ہیں۔ اسی طرح بدھ مت کے ماننے والوں کی مرکزی عبادت گاہ اور زیادہ تر مقدس مقامات سوات میں ہے۔ دنیا بھر میں بدھ مت ماننے والوں کی تعداد اربوں میں (ایک اندازے کے مطابق 535 ملین) ہے۔ بت کڑہ1 دنیا بھر کے بدھ مت ماننے والوں کی مرکزی عبادت گاہ ہے، جو بت کڑہ(گل کدہ) سیدو شریف میں ہے۔ بت کڑہ2، سیدو شریف اسٹوپا، شین گردار سٹوپا، جہان آباد بدھا سمیت اہم مقدس مقامات سوات میں ہیں۔ اس طرح پتھر پر بدھا کے پاؤں کا نشان بھی سوات عجائب گھر میں موجود ہے۔اٹلی کے دارالخلافہ روم کے عجائب گھر جس کے اندر ”سوات میوزیم“ بھی ہے، کے کیوریٹر مس لورا گیویلینا نے کچھ سال قبل پاکستانی صحافیوں کو میوزیم کے دورے کے دوران کہا تھا کہ اگر صرف ”بت کڑہ1“ اٹلی میں ہوتا، تو اٹلی کے کسی باشندے کو کام کرنے کی ضرورت نہ ہوتی اور حکومت تمام لوگوں کو مفت تنخواہ دیتی۔ پاکستان سوات میں موجود بدھ مت کی مرکزی عبادت گاہ اور دیگر اہم ترین مقدس مقامات سے سالانہ اربوں ڈالرز کما سکتی ہے۔ سوات کے آثارِ قدیمہ پر کام کرنے والے اور سوات میں بدھ مت کے مقدس مقامات اور تاریخی مقامات پر دو کتابوں کے مصنف فضل خالق نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ اگر پاکستانی حکومت نے بدھ مت مذہب ماننے والوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی، اور ان کا تحفظ کیا تو دنیا بھر سے بدھ مت ماننے والوں کی اتنی تعداد عبادت کے لئے سوات آئے گی کہ پھر حکومت کو ان کو سنبھالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں انہوں نے بدھ مت والوں سے بات چیت کی تھی۔ اس بارے فضل خالق نے کہا کہ بدھ مت والے اپنی مرکزی عبادت گاہ آنے کے لئے بے چین ہے، لیکن ڈر کی وجہ سے وہ نہیں آرہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی ٹوورازم سے حکومت سالانہ اربوں ڈالرز کما سکتی ہے جس پر انہوں نے ریسرچ بھی کیا اور لکھا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کو میرے خیال میں یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ بدھ مت ماننے والوں کی مرکزی عبادت گاہ پاکستان میں ہے۔
previous post
