(باخبر سوات ڈاٹ کام)چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ قیصر رشید نے کہا ہے کہ جج کا کام یہ نہیں کہ وہ حکومت کے کام مداخلت کرے لیکن پبلک انٹرسٹ کے لیے بعضوں چیزوں پر نوٹس لینا پڑتا ہے۔ سوات بار روم کے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دریائے سوات کے حسن کو قبضہ مافیا نے تباہ کر دیا ہے۔ دریائے سوات کے تحفظ کے لیے کمشنر ملاکنڈ کو فوری ہدایت جاری کیں۔ میرے نوٹس کے بعد دریائے سوات کے تحفظ کے لیے ڈھائی ارب روپے مختص کیے گئے۔ علاقے کے حسن کو بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔دریائے پنج کوڑا کے تحفظ کے لیے پچاس کروڑ روپے منظور کیے۔کمشنر ملاکنڈ کو فوکل پرسن بنا دیا ہے۔ تجاوزات اور دریائے سوات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ دریائے سوات میں غیر قانونی کھدائی اور غیر قانونی کام پر فوری کارروائی کے لیے کمشنر ملاکنڈ کو ہدایت جاری کردی ہیں۔ دریائے سوات کے ساتھ جو ظلم کیا گیا ہے، اس کو مزید برادشت نہیں کریں گے۔ ملاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ ڈویژن کے جنگلات کے تحفظ کے لیے محکمہئ جنگلات کے حکام کو ہدایت جاری کی ہیں۔ درختوں کے ساتھ میرا دلی لگاؤ ہے۔میرا خواہش ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کا حسن برقرار رکھنے میں ہم سب اپنا کردار ادا کریں۔
