سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات میں مزدور یونین نے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں جلسے جلوس،دھرنے اور چھٹیاں ختم ہونے کے بعد بچوں کو احتجاجاًسکول نہ بھیجنے کا اعلان کردیا۔ حکومت مزدوروں کے ساتھ امتیازی سلوک کررہی ہے۔ حالانکہ مزدور ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت رکھتے ہیں۔ حکومت ہمارے حال پر ترس کھا کر مطالبات پر ہمدردانہ غور کرے۔ اس حوالے سے متحدہ اتفاق لیبریونین کے جنرل سیکرٹری زین العابدین، صدر عبدالودود، فضل اکبر اوردیگر عہدیداروں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خیبر پختونخوا اور خصوصاً ضلع سوات کے صنعتی ملازمین اس جدید دور میں بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ سابقہ وفاقی حکومت وسابقہ وزارت خزانہ اور ورکرویلفیئر فند اسلام آباد نے کے پی کے کے مزدوروں کا استحصال کیا ہے۔ کرپشن کے نام پر کنٹریکٹ اور ریگولر کے نام پراساتذہ کو تنگ کیا۔ الٹا ورکنگ فورکس گرائمر سکولز کے معصوم طلبہ کو پڑھائی سے محروم رکھا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہمارے تمام مطالبات فوری طور پر حل نہ ہوئے، توضلع بھر کے مزدور احتجاج کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کریں گے۔
