سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) بچوں کو ڈرانے اور تشدد سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید بگڑ جاتے ہیں۔ پیار اور شفقت کے ماحول میں بچوں کی تعلیم وتربیت قومی ترقی کا معراج بنتا ہے۔ معاشرے میں سب سے خطرناک ذہنی تشدد ہے جس کا اثر تاحیات رہتا ہے اور معاشرتی وقومی بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔ان خیالات کا اظہار ہیومین رائٹس ایکٹیوسٹ شوکت سلیم ایڈووکیٹ نے پختونخوا ریڈیو کے پروگرام ”رنگونہ دسوات“ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جسمانی تشدد سے زیادہ خطرناک ذہنی تشدد ہے۔جسمانی تشدد جسم پر ہوتا ہے اور کچھ ہی عرصہ میں زخم ٹھیک ہوکر انسان وہ تشدد بھول جاتا ہے۔ لیکن ذہنی تشدد انتہائی خطرناک اور نہ بھولنے والی بات ہوتی ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کا دکھ بڑھ جاتا ہے اور تاحیات رہتا ہے۔
