Swat

سوات، لاکھوں کلو ٹراؤٹ کے مرنے سے کروڑوں کے نقصان کا خدشہ

سوات  (باخبر سوات ڈاٹ کام)     کورونا وائرس کی وجہ سے ہوٹلز کی بندش اور سیاحتی علاقوں میں سیاحوں کی آمد پر پابندی سے سوات میں فارموں میں موجود چار سو ٹن (چار لاکھ کلوگرام) سے زیادہ ٹراؤٹ مچھلی کے مرنے اور60کروڑ روپے سے زائد کے نقصان کا خدشہ ہے۔ سوات ٹراؤٹ فش فارمنگ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عثمان علی نے باخبر سوات کو بتایاکہ سوات میں دو سرکاری اور 150سے زیادہ نجی ٹراؤٹ فارمز موجود ہیں، جن میں اس وقت چار لاکھ کلوگرام ٹراؤٹ مچھلی ہے۔ سیاحوں کے آنے پر پابندی اور ہوٹل اور ریسٹورنٹ کی بندش سے ان مچھلیوں کے مرنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹراؤٹ مچھلی 14ماہ میں خوراک اور فروخت کے لئے تیارہوتی ہے، جس کا وزن 250گرام تک ہوتا ہے۔ ایک کلو گرام میں چار سے پانچ کی تعداد میں مچھلی ہوتی ہے۔ مارچ کے مہینے سے اس کی فروخت شروع ہوتی ہے۔ اس سال کرونا وائرس اور سیاحت پر پابندی کی وجہ سے مچھلیوں کی عمر بڑھ رہی ہے،جس کے بعد ان کا وزن کم ہونا شروع ہو جائے گا۔وزن بڑھنے کی وجہ سے ان پر مختلف امراض حملہ کرنا شروع کرتے ہیں جس سے تالابوں میں موجود ٹراؤٹ مرنا شروع ہو جاتی ہے۔ ڈسٹرکٹ آفیسر فیشریز ابرار احمد نے باخبر سوات کو بتایا کہ سوات میں ان کے پاس 92 نجی ٹراؤٹ فارمزہیں، جن میں ایک فارم میں 25 سو کلوگرام سے دس ہزاکلو گرام تک ٹراؤٹ مچھلی ہوتی ہے۔ ان فارمز کی کل پیدوار4لاکھ گلوگرام ہے،جس کی قیمت 50 کروڑ سے 80 کروڑ روپے ہے۔ سوات، چیل روڈ مدین میں ریاست سوات دور کی سرکاری ہیچری کے انچارج جعفر یحییٰ کے مطابق پچھلے سال سرکاری ہیچری سے لوگوں نے85 لاکھ روپے سے زائد کی ٹراؤٹ خریدی تھی۔ ٹراؤٹ فش فارمنگ ایسو سی ایشن کے سیکرٹری عثمان علی کے مطابق ٹراؤٹ مچھلی کی خوراک 150 روپے کلو کے حساب سے ملتی ہے۔ ایک بڑے فارم میں ٹراؤٹ مچھلیوں کو سالانہ 30 لاکھ روپے کی خوراک دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے مزید ایک ماہ بھی سیاحت اور ہوٹلوں کی بندش برقرار رکھی، تو60کروڑ روپے سے زائد مالیت کی 4سو ٹن مچھلیاں مرجائیں گی۔ سوات میں ٹراؤٹ مچھلی کی ایک کلو قیمت سرکاری ہیچری میں ایک ہزار اور نجی فارمز میں 13سو روپے ہے۔ ٹراؤٹ فش فارمنگ ایسو سی ایشن کے سیکرٹری عثمان علی کے مطابق ایک فارم میں پانچ سے چودہ افراد براہِ راست کام کر رہے تھے، جن کی مجموعی تعداد15سو سے زیادہ ہے۔ کام نہ ہونے کی وجہ سے ان میں سے 14سو سے زائد افراد کو نکالا گیا ہے جو بے روزگار ہوگئے ہیں۔اس کے علاوہ ٹراؤٹ فش کی صنعت سے وابستہ دیگر افراد جو ریسٹورنٹ میں کام اور سپلائی کرتے تھے، وہ سیکڑوں افراد بھی بے روزگار ہوگئے ہیں۔ ٹراؤٹ فش فارمنگ ایسو سی ایشن کے عہدیداروں کے مطابق پشاور سے کراچی تک تمام فائیو سٹار اور بڑے ہوٹلوں کو ٹراؤٹ فش کی سپلائی سوات سے ہوتی تھی۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر کے ہوٹلوں کی بندش سے یہ سپلائی بند ہوگئی ہے۔ آئندہ سال پورے ملک میں ٹراؤٹ مچھلی کی قلت کا امکان ہے۔ ٹراؤٹ فش فارمنگ ایسو سی ایشن کے عہدیداروں کے مطابق ٹراؤٹ مچھلی چودہ ماہ میں فروخت اور خوراک کے قابل ہوتی ہے۔ فارمز مالکان سیزن سے چودہ ماہ پہلے بچے خرید کر تالاب میں چھوڑ دیتے ہیں، جو چودہ ماہ بعد فروخت اور خوراک کے لئے تیار ہوتی ہے۔اس سال فارمز میں تمام تالاب مچھلیوں سے بھرے پڑے ہیں جس کی وجہ سے فارم مالکان نے مچھلی کے بچے نہیں خریدے، جس کی وجہ سے اگلے سال مارچ سے ٹراؤٹ مچھلی کی ملک بھر میں قلت ہوگی اور لوگ ٹراؤٹ مچھلی کھانے سے محروم رہ جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں