Swat

سکول چوکیداروں کی 24 گھنٹے ڈیوٹی غیر انسانی سلوک ہے، پشاور ہائی کورٹ

(باخبر سوات ڈاٹ کام) پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد نعیم انور اور جسٹس شاہد خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سرکاری سکولوں میں چوکیداروں سے 24 گھنٹے ڈیوٹی لینے کو غیر انسانی سلوک اور بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دے کر محکمہ تعلیم کو چوکیداروں سے 8 گھنٹے ڈیوٹی لینے کا حکم دیا۔ شیر باز وغیرہ بنام سیکرٹری تعلیم رٹ میں سکولوں کے چوکیداروں کے وکیل بیرسٹر اسد حمید الرحمان نے عدالت کو بتایا کہ ضلع ملاکنڈ اور پورے صوبے میں سرکاری سکولوں کے چوکیداروں سے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے۔ ان کی ہفتہ وار چھٹی ہوتی ہے اور نہ ماہوار، جو آئینِ پاکستان اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ کس قانون کے تحت ان ملازمین سے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے؟ عدالت نے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی کو غیر قانونی قرار دیکر اسے غیر انسانی سلوک کہا اور محکمہ تعلیم کو حکم دیا کہ وہ ان ملازمین سے8 گھنٹے ڈیوٹی لے۔ محکمہ تعلیم کے افسران نے عدالت کو بتایا کہ ان ملازمین کے لئے 8 گھنٹے کا شیڈول تیار کیا گیا ہے اور اب یہ ملازمین8 گھنٹے ڈیوٹی سر انجام دیں گے، جس پر عدالت نے رٹ نمٹا دی۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں